نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 36 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 36

کے آثار نمایاں ایسے نازک موقعوں پر دیکھے گئے جن میں بظاہر کوئی صورت مشکل کشائی کی نظر نہیں آتی تھی اور اسی طرح کشف قبور اور دوسرے انواع اقسام کے عجائبات اسی سورۃ کے التزام ورد سے ایسے ظہور پکڑتے گئے کہ اگر ایک ادنی پر توہ اُن کا کسی پادری یا پنڈت کے دل پر پڑ جائے تو ایک دفعہ حُبّ دنیا سے قطع تعلق کر کے اسلام کے قبول کرنے کے لئے مرنے پر آمادہ ہو جائے۔اسی طرح بذریعہ الہامات صادقہ کے جو پیشگوئیاں اس عاجز پر ظاہر ہوتی رہی ہیں جن میں سے بعض پیشگوئیاں مخالفوں کے سامنے پوری ہوگئی ہیں اور پوری ہوتی جاتی ہیں اس قدر ہیں کہ اس عاجز کے خیال میں دو انجیلوں کی ضخامت سے کم نہیں اور یہ عاجز بطفیل متابعت حضرت رسول کریم مخاطبات حضرت احدیت میں اس قدر عنایات پاتا ہے کہ جس کا کچھ تھوڑا سا نمونہ حاشیہ در حاشیہ نمبر 3 کے عربی الہامات وغیرہ میں لکھا گیا ہے۔خداوند کریم نے اسی رسول مقبول کی متابعت اور محبت کی برکت سے اور اپنے پاک کلام کی پیروی کی تاثیر سے اس خاکسار کو اپنے مخاطبات سے خاص کیا ہے اور علوم لد حمیہ سے سرفراز فرمایا ہے اور بہت سے اسرار مخفیہ سے اطلاع بخشی ہے اور بہت سے حقائق اور معارف سے اس ناچیز کے سینہ کو پُر کر دیا ہے اور بار ہا بتلا دیا ہے کہ یہ سب عطیات اور عنایات اور یہ سب تفضلات اور احسانات اور یہ سب تلطفات اور توجہات اور یہ سب انعامات اور تائیدات اور یہ سب مکالمات اور مخاطبات یمن متابعت و محبت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔برائین احمدیہ چہار حصص - روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 642-646 حاشیہ نمبر (11) سورۃ فاتحہ ایک محفوظ قلعہ، نُورمبین اور استاد و مددگار ہے اور یہ احکام قرآنیہ کو بڑے اہتمام سے کمی بیشی سے محفوظ رکھتی ہے جس طرح سرحدوں کی حفاظت کی جاتی ہے اور اس کی مثال اس اونٹنی کی ہے جس کی پیٹھ پر تیری ضرورت کی ہر چیز لدی ہوئی ہو اور وہ اپنے سوار کو دیار محبوب تک پہنچا دے۔نیز اس پر ہر قسم کا زادراہ، نفقہ اور لباس و پوشاک لدی ہوئی ہو۔یا پھر اس کی مثال اس چھوٹے سے حوض کی ہے جس میں بہت سا پانی ہو گویا کہ وہ متعدد دریاؤں کا منبع ہے، یاوہ ایک عظیم دریا کی گذرگاہ ہے۔اور میں دیکھتا ہوں کہ اس سورۃ کریمہ کے فوائد 36