نُورِ ہدایت — Page 419
کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔لیکن بدی ایک غیر فطری چیز ہے جو اخلاقی قوتوں کو برمحل استعمال نہ کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے اس کے مرتکب کو ایسے رستہ پر چلنا پڑتا ہے جو اس کے لئے تکلیف اور اذیت کا باعث بنتا ہے۔حمد پھر ان الفاظ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ نیکی تو ہر حال میں قابلِ جزا ہے۔لیکن بدیوں میں سے صرف اس بدی کی سزا ملے گی جس میں اکتساب کا رنگ پایا جائے گا۔یعنی قصداً اور ارادتاً اس کا ارتکاب کیا جائے گا۔اس کے بعد تزکیۂ نفس کے لئے اللہ تعالیٰ مومنوں کو بعض خاص دعائیں سکھلاتا ہے کیونکہ دعا ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے انسان اللہ تعالیٰ کا چہرہ دیکھتا ہے اور دعا ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے اس کی قدرتوں پر زندہ ایمان پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ دعا جو اللہ تعالیٰ خود سکھائے اس کی قبولیت میں تو کسی شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہمارے مومن بندے ہمیشہ یہ دعا کرتے رہتے ہیں کہ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا اے ہمارے ربّ! اگر ہم کبھی بھول جائیں یا کوئی خطا ہم سے سرزد ہو جائے تو ہمیں سزا نہ دیجیو بلکہ ہم سے رحم اور عفو کا سلوک کیجیو۔بھول جانے کے معنی یہ ہیں کہ کوئی کام کرنا ضروری ہومگر نہ کیا جائے۔اور خطا کے یہ معنی ہیں کہ کام تو کیا جائے مگر غلط کیا جائے۔بعض لوگ اس بحث میں پڑ گئے ہیں کہ نسیان اور خطا دو ہم معنی لفظ یہاں کیوں لائے گئے ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ دنیا میں تمام کام دو قسم کے ہوتے ہیں۔کوئی کام تو ایسے ہوتے ہیں جو کرنے ضروری ہوتے ہیں مگر انسان نہیں کرتا۔اور کوئی کام ایسے ہوتے ہیں جو انسان کرتا تو ہے مگر غلط طور پر کرتا ہے اور یہ دونوں ہی غلطیاں ہوتی ہیں۔نسیان کے معنی بھول جانے کے ہیں اور بھولنا کرنے کے متعلق ہوتا ہے، نہ کرنے کے متعلق نہیں ہوتا۔پس لا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا کے معنی یہ ہوئے کہ خدایا ایسا نہ ہو کہ جو کام ہمارے لئے کرنے ضروری ہیں وہ ہم نہ کریں اور اس طرح ہم ترقی سے محروم ہو جائیں۔پس تو ہماری حفاظت فرما۔419