نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 407 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 407

واجب ہے۔آجکل مسلمان یا تو عجز میں گفتار ہیں یا کسل میں۔عجز کہتے ہیں اسباب مہیا نہ کرنے کو اور گنل کہتے ہیں اسباب مہیا شدہ سے کام نہ لینے کو۔ان کو چاہئے کہ وہ گنل چھوڑ دیں جس کے اسباب میں سے ایک کبر وغرور خود پسندی بھی ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان 20 رمئی 1909ء) ہمارا رسول اور دوسرے مومن تو اس طریق پر چلتے ہیں کہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔فرشتوں کی نیک تحریکیں مانتے ہیں اور ان میں تفرقہ نہیں کرتے۔یعنی یوں نہیں کہ کسی کو مان لیا اور کسی کو نہ مانا۔پھر ان کی گفتار، ان کے کردار سے کیا نکلتا ہے (قَالُوا کے معنے۔بتایا۔زبان سے یا اپنے کاموں سے ) سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا یعنی ثابت کرتے ہیں کہ نہ صرف وہ اپنی زبان بلکہ اپنے اعمال سے دکھاتے ہیں کہ باتیں سنیں اور ہم فرمانبردار ہیں۔تیری مغفرت طلب کرتے ہیں۔تیرے حضور ہم نے جانا ہے۔اے مولا! تو ہی ہمیں طاقت عطا فرما اور ہمارے نسیان و خطا کا مواخذہ نہ کر۔ہم پر وہ بوجھ نہ رکھ جو ہم سے برداشت نہ ہو سکیں۔یہ دعا مومنوں کی ہے تم بھی مانگا کرو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا۔ہر وقت جناب الہی سے مغفرت طلب کرتے رہو اور اسی کو اپنا والی و ناصر جانو۔بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو سمجھانے والے کے سمجھانے کی برداشت نہیں۔وہ اپنے خیالات کے اندر ایسے منہمک ہوتے ہیں کہ کسی کی پرواہ نہیں کرتے۔اس قسم کی بے پرواہی اور تکبر کا نتیجہ ہے کہ کفار نے تمہاری سلطنتیں لے لیں۔اگر تم پورے طور سے خدا کی بادشاہت اپنے او پر مان لیتے اور مومن بنتے تو کفار کے قبضہ میں نہ آتے۔اللہ بڑا بے پرواہ ہے۔اسے فرمانبرداری پسند ہے۔خدا تعالی آسودگی بخشے تو متکبر نہ بنو۔لوگوں کا حال تو یہ ہے کہ دوسروں کی بیٹیوں کے ساتھ نیک سلوک نہیں کرتے حالانکہ ان کے اپنے گھر بیٹیاں ہیں جو دوسرے گھروں میں جانے والی ہیں۔جو سلوک تم نہیں چاہتے کہ ہم سے ہو وہ غیروں سے کیوں کرو ؟ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہو اور خدا کے فرمانبردار بننے کی کوشش کرو۔اللہ تمہیں توفیق بخشے۔الفضل 25 جون 1913 ، صفحہ 15) 407