نُورِ ہدایت — Page 405
محبوب اشیاء کو ترک کرے گا تو ضروری ہے کہ اوّل اوّل سخت تکلیف اٹھاوے مگر رفتہ رفتہ اگر استقلال سے وہ اس پر قائم رہے گا تو دیکھ لے گا کہ ان بدیوں کے چھوڑنے میں جو تکلیف اس کو محسوس ہوتی ہے وہ تکلیف اب ایک لذت کا رنگ اختیار کرتی جاتی ہے۔کیونکہ ان بدیوں کے بالمقابل نیکیاں آتی جائیں گی اور ان کے نیک نتائج جو سکھ دینے والے ہیں وہ بھی ساتھ ہی آئیں گے۔یہاں تک کہ وہ اپنے ہر قول و فعل میں جب خدا تعالیٰ ہی کی رضا کو مقدم کرلے گا اور اس کی ہر حرکت و سکون اللہ ہی کے امر کے نیچے ہوگی تو صاف اور بین طور پر وہ دیکھے گا کہ پورے اطمینان اور سکینت کا مزہ لے رہا ہے۔یہ وہ حالت ہوتی ہے جب کہا جاتا ہے کہ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة 36) اسی مقام پر اللہ تعالیٰ کی ولایت میں آتا ہے اور ظلمات سے نکل کر نور کی طرف آ جاتا ہے۔یا درکھو! کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے لئے اپنی محبوب چیزوں کو جو خدا کی نظر میں مکروہ اور اس کے منشاء کے مخالف ہوتی ہیں چھوڑ کر اپنے آپ کو تکالیف میں ڈالتا ہے تو ایسی تکالیف اٹھانے والے جسم کا اثر روح پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی اس سے متأثر ہو کر ساتھ ہی ساتھ اپنی تبدیلی میں لگتی ہے یہاں تک کہ کامل نیازمندی کے ساتھ آستانہ الوہیت پر بے اختیار ہو کر گر پڑتی ہے، یہ طریق ہے عبادت میں لذت حاصل کرنے کا۔الحكم جلد 7 نمبر 9 مورخہ 10 مارچ 1903 ، صفحہ 1 - ملفوظات جلد دوم صفحہ 698) لهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ اُس کے لئے جو اُس نے کام اچھے کئے اور اُس پر جو اُس نے بُرے کام کئے۔جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد 6 صفحه (231) رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا انت مولينا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ یعنی اے ہمارے خدا!! نیک باتوں کے نہ کرنے 405