نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 388 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 388

اور ان لوگوں نے تو جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کتاب سے یہ نور پایا، انہوں نے تو ہزار سال پہلے اپنی علمیت کا سکہ منوالیا تھا۔یورپ جو آج علم کی روشنی کا اظہار کر رہا ہے، یورپ نے ان سے علوم سیکھے تھے۔پس صرف روحانی ٹورنہیں بلکہ دنیاوی ترقیات کے لئے بھی وہ لوگ جو تھے روشنی کا مینار بن گئے۔پس آج مسلمانوں کوغور کی ضرورت ہے کہ وہ ٹور جس نے تمام دنیا کو روشن کیا، کیا دنیاوی علوم کے لحاظ سے اور کیا روحانی علوم کے لحاظ سے، وہ ٹورکیوں ان کے اندر سے نکل کر نہیں پھیل رہا جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے اور اپنے ماننے والوں میں وہ ٹور پیدا کیا تھا۔اللہ، رسول اور قرآن کی پیروی کا دعوی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ٹورنظر نہیں آرہا۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں جس شخص نے اس ٹور کا حقیقی پر تو بنا تھا اس کا انکار ہے لیکن ساتھ ہی احمدیوں کے لئے بھی سوچنے کا اور فکر کرنے کا مقام ہے کہ منہ سے ماننے کا دعویٰ کر کے نُور سے حصہ نہیں مل جاتا۔اس قرآنی ٹور سے حصہ لینے کے لئے اس انسان کامل کے عاشق صادق کی بیان کردہ تعلیم اور قرآنی تفسیر پر غور کرنا اور اس کو اپنے اوپر لاگو کرنا بھی ضروری ہے۔دنیا میں ڈوب کر روشنی تلاش نہ کریں۔بلکہ قرآن کریم میں ڈوب کر حکمت کے موتی تلاش کرنا ہر ایک احمدی کا فرض ہے اور دنیا کو حقیقی روشنی سے روشناس کروانا ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ایک عربی شعری کلام میں آنحضرت ﷺ کے نور کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔ایک شعر میں فرماتے ہیں کہ نُورٌ مِّنَ اللهِ الَّذِي أَحْيَا الْعُلُوْمَ تَجَلُّ دَا الْمُصْطَفَى وَالْمُجْتَبى وَالْمُقْتَدى وَالْمُجْتَدى وہ اللہ کا نور ہے جس نے علوم کو نئے سرے سے زندہ کیا۔وہی برگزیدہ اور چنیدہ ہے جس کی پیروی کی جاتی ہے اور فیض طلب کیا جاتا ہے۔پس علوم معارف کا خزانہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور قرآن کریم ہے۔لیکن اس کو سمجھنے کے لئے آنکھ میں نور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔جس کا پیدا کرنا اس زمانہ میں 388