نُورِ ہدایت — Page 384
اُسے اللہ تعالیٰ کے نور کے سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے۔لیکن اگر کسی دہریہ کو ان چیزوں میں خدا نظر نہیں آتا جبکہ مومن کو تو ہر چیز میں خدا نظر آتا ہے اور وہ ان چیزوں سے فیض بھی پار با ہے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ہے اور پھر بعض دفعہ ان کی یا سائنسدانوں کی کوششیں بھی اللہ تعالیٰ کی رحیمیت کے جلوے ہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی اس کائنات کی چیزوں کا ایک حد تک علم حاصل ہو رہا ہے اور چاند اور سورج اور دوسرے ستاروں کے دنیاوی فائدے ایک دہر یہ اٹھا رہا ہے۔جبکہ مذہب کی دنیا میں رہنے والا اور ایک حقیقی مومن جسے تو ر قرآن بھی دیا گیا ہے اس سے روحانی اور مادی دونوں طرح کے فائدے اٹھاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بعض جگہ دونوں نوروں کا ایک ہی جگہ ذکر بھی فرمایا ہے تا کہ دنیاوی کاموں میں بھی راہنمائی ملے اور روحانی کاموں کی طرف بھی توجہ پیدا ہو۔پھر ٹو راخروی کے متعلق مفردات میں آتا ہے کہ ٹور اخروی کیا چیز ہے۔اس کے بارہ میں انہوں نے اس آیت کو سامنے رکھا ہے کہ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَثْمِمْ لَنَا نُورَنَا (التحریم (9) اُن کا نور ان کے آگے اور داہنی طرف روشنی کرتا ہوا چل رہا ہوگا اور وہ خدا سے التجا کریں گے کہ اے پروردگار ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کر دے۔یہ وہ اخروی نُور ہے جوان کو مرنے کے بعد نظر آئے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَأَهْلَ الْكِتب قَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّهَا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَبِ وَيَعْفُوا عَنْ كَثِيرٍ۔قَدْ جَاءَ كُمْ مِّنَ اللَّهِ نُورٌ وَ كِتَبٌ مُّبِينٌ يَهْدِي بِهِ اللهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إلى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (المائدہ 16-17) اے اہل کتاب یقینا تمہارے پاس ہمارا وہ رسول آ چکا ہے جو تمہارے سامنے بہت سی باتیں جو تم اپنی کتاب میں سے چھپایا کرتے تھے خوب کھول کر بیان کر رہا ہے اور بہت سی ایسی ہیں جن سے وہ صرف نظر کر رہا ہے۔یقینا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آچکا ہے اور ایک روشن کتاب بھی۔384