نُورِ ہدایت — Page 374
ذات میں کس طرح چمکا؟ میں بیان کر چکا ہوں۔اور یہ اعلی ترین معیار تھا اور قیامت تک رہے گا جو اللہ تعالیٰ کے نور کا پر تو بن کر دنیا میں قائم ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ٹور کو زمین میں پھیلاد یا اور پھر یہی نہیں کہ اپنی زندگی میں پھیلایا بلکہ یہ سلسلہ جاری ہے اور یہ ٹور پھیلتا چلا جارہا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے جو اس کی مثال ہے وہ میں مختصر دوبارہ بیان کر دیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر کہ اللهُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْض کہ اللہ زمین و آسمان کا نور ہے، پھر فرمایا کہ انسانوں کے سمجھنے کے لئے اس کی مثال بیان کی جاتی ہے اور مثال یہ ہے۔اس کی مثال ایک مشکوۃ کی طرح ہے، ایک طاق کی طرح ہے، ایک ایسی اونچی جگہ کی طرح ہے جس میں روشنی رکھی جاتی ہے اور یہ طاق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ ہے اور اس طاق میں ایک مصباح ہے، ایک لیمپ ہے اور یہ لیمپ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری اور یہ لیمپ ایک زجاجہ میں ہے یعنی شیشہ کے گلوب میں ہے اور یہ گلوب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہے جو نہایت صاف اور تمام کثافتوں سے پاک ہے اور یہ زجاجہ یا گلوب ستارے کی طرح چمکدار ہے اور خوب روشنی بکھیر تا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس سے مراد آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل ہے جس کے اندر کی روشنی بھی بیرونی قالب پر پانی کی طرح بہتی نظر آتی ہے۔پھر اللہ تعالی اپنی مثال میں آگے بیان فرماتا ہے کہ یہ چراغ یا لیمپ زیتون کے شجرہ مبارکہ سے روشن ہے اور اس شجرہ مبارکہ سے مراد ( یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال ہم سامنے رکھیں تو ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے جو تمام کمالات اور برکات کا مجموعہ ہے جو تا قیامت قائم رہے گا۔اس لئے قائم رہے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جو انسان کامل کہلائے اور قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کوئی پیدا نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس مثال میں شرقی یا غربی نہ ہونے سے مراد اسلام کی تعلیم ہے۔جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط ہے۔نہ ایک طرف جھکاؤ ہے۔نہ 374