نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 373 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 373

کی تفصیل تو بیان نہیں کرتا لیکن اس کا خلاصہ بیان کر کے اس مضمون کو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے بیان کروں گا۔اس نور کی جو مثال دی گئی ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تک ہی ہے یا اس میں وسعت ہے۔پچھلی دفعہ میں نے تفصیل بیان کی تھی۔شاید بعضوں کا خیال ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تک محدود ہے۔یقینا اللہ تعالیٰ کا نور ہر چیز پر حاوی ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پہلا اعلان ہی یہ فرمایا کہ اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْض کہ اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا نور ہے۔اس لئے ہر چیز اس کے نور سے ہی فیض پاتی ہے اور فیض پاسکتی ہے۔اس کے علاوہ کوئی نہیں جو اپنی ذاتی ہوشیاری یا علم یا عقل سے اس کے ٹور کو حاصل کر سکے۔وہ خود چاہیے تو مہیا کرتا ہے اور اس کے طریقے ہیں۔یہ نور اللہ تعالیٰ کس طرح ہے اور کیوں ہے اس لئے کہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا بھی وہی ہے۔جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی جگہ ذکر فرمایا ہے کہ میں نے ہی زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔مثلاً ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ (ابراهيم (33) کہ اللہ وہ ہستی ہے جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے۔اس میں موجود ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر انہیں انسانوں کے لئے مسخر کیا۔جب اس نے پیدا کیا تو وہی ہے جو روحانی روشنی بھی عطا فرماتا ہے اور مادی بھی۔پس حقیقی نُور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو دیکھنے والی آنکھ کو ہر جگہ، ہر روح میں ، ہر جسم میں ، ہر چیز میں نظر آتا ہے۔لیکن ایک ایسا شخص جس کی روحانی آنکھ اندھی ہوا سے یہ ٹورنظر نہیں آتا۔لیکن ایک مومن اس یقین پر قائم ہے کہ ہماری کائنات اور جتنی بھی کائناتیں ہیں جن کا علم انسان کو ہے یا نہیں ہے، ان کا پیدا کرنے والا، ان کا نور اور ان کو قائم رکھنے والا خدا تعالیٰ ہے اور اس ٹور کا صحیح ادراک پیدا کروانے کے لئے خدا تعالیٰ اپنے انبیاء اور فرستادوں کو بھیجتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے نُور پاتے ہیں جو آسمان سے ان پر اترتا ہے اور وہ دنیا میں پھر اسے پھیلاتے ہیں۔وہ نور جو آسمان سے اتر کر زمین پر انبیاء کے ذریعہ سے پھیلتا ہے اس کی مثال اس آیت میں بیان فرمائی گئی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کہ یہ نور آپ کی 373