نُورِ ہدایت — Page 30
میں حاوی ہے اور اس نے سیپ کی طرح قرآن کریم کے جواہرات اور موتیوں کو اپنے اندرلیا ہوا ہے۔اور یہ سورۃ علم و عرفان کے پرندوں کے لئے گھونسلوں کی مانند بن گئی ہے۔یادر ہے که قرآن کریم میں انسانوں کی رہنمائی کے لئے چار مضامین بیان کئے گئے ہیں۔1۔علم مبدء۔2 علم معاد - 3 علم نبوت۔4 علم تو حید ذات وصفات۔اور لاریب یہ چاروں علوم سورۃ فاتحہ میں موجود ہیں۔اور یہ علوم اکثر علمائے امت کے سینوں میں زندہ درگور کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ لوگ سورۃ فاتحہ کو پڑھتے تو ہیں لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتی اور وہ اس کی ان سات نہروں کو پوری طرح جاری نہیں کرتے ( تا وہ خود بھی اور دوسرے لوگ بھی ان سے فائدہ اٹھائیں بلکہ وہ فاجر لوگوں کی سی زندگی بسر کرتے ہیں۔اس کا نام اُٹھ الکتاب بھی ہے کیونکہ قرآن شریف کی تمام تعلیم کا اس میں خلاصہ اور عطر موجود ہے۔سورۃ کا نام ام الکتاب رکھنے کی یہ وجہ بھی ہوسکتی ہے کہ امور روحانیہ کے بارے میں اس میں کامل تعلیم موجود ہے، کیونکہ سالکوں کا سلوک اُس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک کہ اُن کے دلوں پر ربوبیت کی عزت اور عبودیت کی ذلت غالب نہ آ جائے۔اس امر میں خدائے واحد ویگانہ کی طرف سے نازل شدہ سورۃ فاتحہ جیسا رہنما اور کہیں نہیں پاؤ گے۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس نے کس طرح الْحَمدُ لله رب العلمین سے لے کر مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک کے الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی عزت اور عظمت کو ظاہر فرمایا ہے۔پھر اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہہ کر بندہ کے عجز اور کمزوری کو ظاہر کیا ہے۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس سورۃ کو اُٹھ الکتاب اس امر کے پیش نظر کہا گیا ہو کہ اس میں انسانی فطرت کی سب ضرورتیں مڈ نظر ہیں اور انسانی طبائع کے سب تقاضوں کی طرف اشارہ ہے خواہ وہ کسب سے متعلق ہوں یا افضال الہیہ سے۔کیونکہ انسان اپنے نفس کی تعمیل کے لئے اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور افعال کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے۔اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اسے اس کے ان احکام کے وسیلہ سے اس کی خوشنودی کا علم ہو جائے ، جن کی حقیقت اس کے 30