نُورِ ہدایت — Page 368
انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ اصولی فیصلہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کا انکار کرنے والے شیطان کے دوست ہیں اور شیطان روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جاتا ہے۔کبھی اس کے پیچھے چلنے والے روشنی کے نظارے نہیں دیکھ سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوئی فرمایا اور مکہ والوں کو ہدایت کی طرف بلایا تو سرداران قریش جن میں سے بعض بڑے عقلمند اور اچھے انسان کہلاتے تھے اور بعض نیکیاں بھی کرتے تھے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کی وجہ سے شیطان کے بہکاوے میں آ کر، یا بہکاوے میں آنے کی وجہ سے ان نیکیوں سے محروم ہوتے چلے گئے اور آخر بلا کت ان کا مقدر بن گئی۔ابوالحکم پہلے ابو جہل بنا اور پھر ذلت کی موت ملی۔گزشتہ خطبہ میں میں نے اس کا ذکر بھی کیا تھا اور آج تک ابو جہل ہی کہلاتا ہے بلکہ تا قیامت ابوجہل ہی کہلائے گا۔اس کا ولی شیطان تھا جو اس کی کوئی مدد نہیں کر سکا۔وہ اندھیروں میں ڈوبتا چلا گیا۔لیکن حبشی غلام، بلال ایمان کے نور کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ولی بن گئے اور اللہ تعالیٰ کی دوستی اور مدد کے نتیجہ میں قیامت تک سیدنا بلال کا مقام پاگئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں روحانیت اور سچائی کے دعویدار ہونے کے باوجود آپ عالئیسلام کے جو منکرین تھے آپ کے مقابلہ پر کھڑے ہو کر اندھیروں میں ڈوبتے چلے گئے۔لیکن کئی ایسے جو جاہل اور اُجڑ تھے، کئی ایسے جو رشوت خور اور بدنام زمانہ تھے، جب ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا تو وہ ایمان لانے کی وجہ سے اللہ تعالی کے وعدے کے مطابق روحانیت میں ترقی کرنے والے بنتے چلے گئے۔پس نبی کے انکار کرنے والے اس انکار کی وجہ سے اندھیروں میں گرتے چلے جاتے ہیں اور شیطان ان میں کینہ اور بغض اور نا انصافی اس قدر بھر دیتا ہے کہ وہ پھر مزید ظلمات میں گرتے چلے جاتے ہیں اور پھر ان کے انجام کے بارہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کا انجام بہت برا ہوگا۔اس دنیا میں بھی وہ حسد کی آگ میں اور دشمنی کی آگ میں جلتے چلے جائیں گے۔جماعتی ترقی کا ہر قدم ان کے بغضوں اور کینوں کو بھڑکائے گا۔لیکن ان کے یہ غصے اور کینے ان لوگوں کو جن کا ولی اللہ تعالیٰ ہو جاتا ہے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔368