نُورِ ہدایت — Page 28
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ترجمہ: خدا جس کا نام اللہ ہے تمام اقسام تعریفوں کا مستحق ہے۔اور ہر ایک تعریف اسی کی شان کے لائق ہے کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔وہ رحمان ہے، وہ رحیم ہے، وہ مالک یوم الدین ہے۔ہم (اے صفات کاملہ والے) تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ سے ہی چاہتے ہیں۔ہمیں وہ سیدھی راہ دکھلا جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے۔اور ان راہوں سے بچا جوان لوگوں کی راہیں ہیں جن پر تیرا غضب طاعون وغیرہ عذابوں سے دنیا ہی میں وارد ہوا اور نیز ان لوگوں کی راہوں سے بچا کہ جن پر اگرچہ دنیا میں کوئی عذاب وارد نہیں ہوا۔مگر اخروی نجات کی راہ سے وہ دور جا پڑے ہیں اور آخر عذاب میں گرفتار ہوں گے۔ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 246) جاننا چاہئے کہ سورۃ فاتحہ کے بہت سے نام ہیں جن میں سے پہلا نام فاتحه الکتاب ہے اور اس کا یہ نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ قرآن مجید اسی سورۃ سے شروع ہوتا ہے۔نماز میں بھی پہلے یہی سورۃ پڑھی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ سے جورب الارباب ہے دُعا کرتے وقت اسی ( سورۃ ) سے ابتدا کی جاتی ہے۔اور میرے نزدیک اس سورۃ کو فاتحہ اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اِس سورۃ کو قرآن کریم کے مضامین کے لئے حکم قرار دیا ہے۔اور جو اخبار غیبیہ اور حقائق و معارف قرآن مجید میں احسان کرنے والے خدا کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں وہ سب اس میں بھر دیے گئے ہیں۔اور جن امور کا انسان کو مبدء ومعاد ( دنیا اور آخرت) کے سلسلہ میں جاننا ضروری ہے، وہ سب اس میں موجود ہیں۔مثلاً وجود باری ، ضرورت نبوت اور مومن بندوں میں سلسلہ خلافت کے قیام پر استدلال۔اور اس سورۃ کی سب سے بڑی اور اہم خبر یہ ہے کہ یہ سورۃ مسیح موعود اور مہدی معہود کے 28