نُورِ ہدایت — Page 350
ہوا ہے اس لئے جب کسی قرینہ کے بغیر یہ لفظ استعمال ہوتو اس کے معنے برے ہی کئے جاتے ہیں۔جس طرح مومن کے معنے بھی ایسے ہی ہیں لیکن وہ زیادہ تر نیکی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اس لئے جب مومن کا لفظ بغیر کسی قرینہ کے استعمال ہو تو اس کے معنے ہمیشہ نیک کے ہی کئے جائیں گے۔حالانکہ قرآن کریم میں مومن کا لفظ بھی برے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔يُؤْمِنُونَ بِالجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ (نساء 25) وہ بے فائدہ باتوں اور حد سے۔بڑھنے والوں پر ایمان رکھتے ہیں۔اس جگہ فَمَن يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ میں طاغوت کا کفر کرنے سے اس کی ذات کا انکار مراد نہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ اس کی بات نہ مانے۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کا لفظ رکھا ہے جس کے معنے خدا تعالیٰ کی بات ماننے کے ہیں۔اور فرمایا ہے کہ جو شخص طاغوت کا انکار کرتا ہے اور اللہ تعالی پر ایمان لاتا ہے وہ ایسے مضبوط کڑے کو پکڑ لیتا ہے جو کبھی ٹوٹتا ہی نہیں۔عُروہ کے معنے دستہ کے بھی ہوتے ہیں جس پر اعتبار کیا جائے اور عُروہ کے معنے ایسی چیز کو بھی کہتے ہیں جس کی طرف انسان ضرورت کے وقت رجوع کرے۔اور غمروہ اس چیز کو بھی کہتے ہیں جو ہمیشہ قائم رہے اور کبھی ضائع نہ ہو۔اور غروہ بہترین مال کو بھی کہتے ہیں۔(1) اگر غروہ کے معنے دستہ کے لئے جائیں تو اس آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ دین کو خدا تعالیٰ نے ایک ایسی لطیف چیز قرار دیا ہے جو کسی برتن میں پڑی ہوئی ہو اور محفوظ ہو اور انسان نے اس برتن کا دستہ پکڑ کر اسے اپنے قبضہ میں کرلیا ہو۔(2) پھر غروہ کہہ کر اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ دین ایک ایسی چیز ہے جس کا انسان سہارا لے لیتا ہے تا کہ اسے گرنے کا ڈر نہ رہے۔جیسے سیڑھیوں پر چڑھنے کے لئے انسان کو رشہ کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ اسے پکڑ لیتا ہے۔اسی طرح دین بھی اس رشتہ کی طرح ایک سہارا ہے۔اسے مضبوط پکڑ لینے سے گرنے کا ڈر نہیں رہتا۔(3) غروہ کہہ کر یہ بھی بتایا کہ اگر انسان اسے مضبوطی سے پکڑلے تو وہ ہر مصیبت کے وقت اس کے کام آتا ہے۔350