نُورِ ہدایت — Page 345
ادغام اور ایک دوسرے کے گردگھومنے وغیرہ افعال پر لطیف رنگ میں اشارہ کرتی ہے۔سنہ سے مراد وہ اونگھ ہے جو نیند کے غلبہ کی وجہ سے آنے لگے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔حالانکہ جب اونگھ کی نفی کر دی گئی تھی تو نیند کی خود ہی نفی ہو جاتی ہے۔پھر نیند کی نفی کی کیا ضرورت تھی؟ سو یا درکھنا چاہئے کہ اس میں ایک حکمت ہے۔اور وہ یہ کہ سنہ اس کو کہتے ہیں کہ جب سخت نیند کی وجہ سے انسان کی آنکھیں بند ہو جائیں۔چنانچہ جب انسان کو بہت زیادہ نیند آئی ہوئی ہو اس وقت اونگھ آتی ہے۔اور جب تک نیند کا غلبہ نہ ہو اونگھ نہیں آتی۔تو فرمایا کہ خدا تعالیٰ کو کبھی اونگھ نہیں آتی کہ کام کرنے کی وجہ سے وہ تھک گیا ہو۔اور اس پر نیند کا ایسا غلبہ ہو کہ اس کی آنکھیں بند ہوگئی ہوں اور نہ اسے معمولی نیند آتی ہے۔غرض ترتیب بیان کے لحاظ سے سنة کا ہی پہلے ذکر آنا ضروری تھا۔اور نوم کا بعد میں۔له مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ تمہارا آقا ایسا ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ اُسی کا ہے۔ایسی صورت میں تم اس کے مقابلہ میں کسی اور کو اپنا آقا کس طرح بنا سکتے ہو۔پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کے سوا اور کسی کی عبادت تو نہیں کرتے ہاں دوسروں کو نیا زمیں دیتے اور ان سے مرادیں مانگتے ہیں۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں۔اور وہ خدا تعالیٰ کے حضور ہماری شفاعت کریں گے۔خدا تعالی فرماتا ہے مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ۔ہمارے حکم کے بغیر تو کوئی شفاعت ہی نہیں کر سکتا۔پس تمہاری یہ امید بھی غلط ہے۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن آنحضرت علی ایم کو اذن ہو گا تب آپ سفارش کریں گے۔پھر کیسانادان ہے وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ فلاں میری سفارش کر دے گا۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ کے دو معنے ہیں۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی جانتا ہے جو آگے ہونا ہے اور اسے بھی جانتا ہے جولوگ پیچھے کر چکے ہیں۔345