نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 344 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 344

بہر حال جب تک کوئی انسان اللہ اور اس کے رسول سے واصل نہ ہو جائے اور ان کو اپنا جوڑا نہ بنالے اس وقت تک اسے کسی قسم کی شفاعت میسر نہیں آئے گی۔وَالْكَفِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ میں بتایا کہ ظلم نہیں بلکہ ظلم کفار نے خود اپنی جانوں پر کیا ہے۔اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا مَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقرة 256) * الحى : کامل حیات والا۔اللہ تعالیٰ کے لئے جب اٹھی آتا ہے تو الف لام کمال کے معنے دیتا ہے اور اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالی حیات کا ملہ رکھتا ہے یعنی ایسی حیات جو اپنے قیام میں کسی اور کی محتاج نہیں۔اسے کسی اور نے زندگی نہیں بخشی بلکہ اس کی ذات ازلی اور ابدی طور پر زندہ ہے۔الْقَيُّومُ قَامَ سے نکلا ہے جس کے معنے کھڑے ہونے کے ہیں۔اسی سے قیم نکلا ہے جس کے معنے نگران اور متولی کے ہیں اور قیم مُسْتَقِيمٌ کو بھی کہتے ہیں۔آمْرٌ قَيَّمُ ایسا امر جس میں کوئی کمی نہ ہو بلکہ درست اور ٹھیک ہو۔الْقَيُّومُ اور الْقَيَّامُ کے معنے ہیں جو اپنی ذات میں قائم ہے اور اس کی کوئی ابتدا نہیں (اقرب) الْقَيُّومُ صرف اسی کو نہیں کہتے جو اپنی ذات میں قائم ہو بلکہ اس کے معنوں میں دوسرے کو قائم رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا بھی شامل ہے۔اور اللہ تعالیٰ القَيُّومُ ہے۔نہ صرف اس لئے کہ وہ خود قائم ہے بلکہ اس لئے بھی کہ دوسری سب اشیاء اس کی پیدا کردہ طاقتوں سے قائم رہتی ہیں۔الْقَيُّومُ کی صفت اجرام فلکی میں کشش ثقل کے وجود اور خور دبینی ذرات کے ایک دوسرے اتصال اور ایک دوسرے سے 344