نُورِ ہدایت — Page 343
شفاعت کا حق پہنچے گا لیکن دوسروں کو نہیں۔اور نہ ان کے حق میں شفاعت قبول ہوگی۔خدا تعالیٰ کو شفیع اس لئے قراردیا کہ اس کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں ہوسکتی۔پس اصل شفیع وہی ہے۔فرماتا ہے يَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِيَ لَهُ قَوْلًا (طه 110) یعنی اس دن شفاعت سوائے اس کے جس کے حق میں شفاعت کرنے کی اجازت رحمن خدا دیگا اور جس کے حق میں بات کہنے کو وہ پسند کرے گا اور کسی کو نفع نہیں دے گی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہاں شفاعت پالاذن ہو گی۔خدا تعالی کے اذن کے بغیر شفاعت کا حق نہیں ہوگا۔دوسری جگہ فرماتا ہے۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَطَى وَهُمْ مِنْ خَشْيَتِهِ مُشْفِقُونَ (الانبیاء (29) یعنی خدا تعالیٰ اس کو بھی جانتا ہے جو انہیں آئندہ پیش آنے والا ہے اور جو وہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں اور وہ سوائے اس کے جس کے لئے خدا نے یہ بات پسند کی ہو کسی کے لئے شفاعت نہیں کرتے اور وہ اس کے خوف سے لرزتے رہتے ہیں۔پھر اس آیت سے اگلی آیت میں فرماتا ہے مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ( البقرة2565) یعنی کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور کسی کی سفارش کرے۔بیشک حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن آنحضرت معالم اور انبیاء سابقین کے علاوہ آنحضرت علیم کے بعض امتی بھی شفاعت کریں گے۔لیکن ان حدیثوں کے بارے میں میری تشریح یہ ہے کہ امت محمدیہ میں ایسے افراد کی شفاعت صرف ظنی ہوگی اصل شفیع آنحضرت علیم ہی ہوں گے۔وہ محمد رسول اللہ صل علیم سے سفارش کریں گے اور آپ اللہ تعالیٰ سے۔بانی سلسلہ احمدیہ نے بھی اسی عقیدہ کی توضیح فرمائی ہے۔آپ اپنی کتاب کشتی نوح میں فرماتے ہیں۔نوع انسان کے لئے رُوئے زمین پر اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم۔سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو۔اور اُس کے غیر کو اُس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔“ 343