نُورِ ہدایت — Page 336
ہے۔مومن کو تو خدا نے اول ہی ولی بنایا ہے۔جیسے کہ فرمایا ہے : اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا۔( البدر جلد 4 نمبر 3 مورخہ 20 جنوری 1905 ، صفحہ 3) (ماخوذ از تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: يَوْمٌ لا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةُ : ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ وہاں نہ کوئی نئی بیچ ہو سکے گی نہ خلت ، نہ شفاعت۔یہاں بیع، خلت ، شفاعت کی مطلق نفی ہر گز نہیں ہے۔عربی میں لا دو طرح کے آتے ہیں۔ایک وہ جس کے بعد تنوین آتی ہے اور ایک وہ جس کے بعد تنوین نہیں آتی۔پہلے کی مثال یہی آیت ہے۔اور دوسرے کہ مثال لا رَفَتَ وَلَا فُسُوقَ وَ لا جدال (البقرة 198) ان دونوں لا میں فرق ہے۔تنوین نہ ہو تو اس کے معنی ہیں ”بالکل نہیں“۔لا نفی جنس کا ہے اور اگر تنوین ہو تو اس سے مراد ہے بعض صورتوں میں نہیں۔یہ لا، مشبہ بہ لیس ہے۔اب چونکہ یہاں تنوین ہے اس لئے یہاں بیع کی مطلق نفی نہیں۔اسی لئے دوسرے مقام پر فرمایا فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ (التوبه (111) اور نہ خُلَّة کی مطلق نفی ہے۔چنانچہ فرمایا الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ (الزخرف 68) اور نہ شفاعت کی چنانچہ اس سے آگے اِلَّا باذنہ آتا ہے۔وَالْكَفِرُونَ هُمُ الظَّلِمُونَ: کافر اپنی جان پر بھی ظلم کرتا ہے اور دوسروں پر بھی۔اخبار بدر قادیان 6 مئی 1909ء) ہر ایک عیب سے پاک۔تمام صفات کاملہ کے ساتھ موصوف۔جس کا نام ہے اللہ۔اس کے بغیر کوئی بھی پرستش و فرمانبرداری کا مستحق نہیں۔دائم اور باقی تمام موجودات کا مدبر اور حافظ جس کو کبھی سستی ، اُونگھ اور نیند نہ ہو۔اُسی کے تصریف اور ملک اور خلق میں ہیں۔آسمان و زمین اُسی کی ہستی اور یکتائی کو ثابت کرتے ہیں۔کوئی بھی نہیں کہ اس کی کبریائی، 336