نُورِ ہدایت — Page 316
تحریک کی ہے۔شفاعت کے مسئلہ کے فلسفہ کو نہ سمجھ کر احمقوں نے اعتراض کیا ہے اور شفاعت اور کفارہ کو ایک قرار دیا حالانکہ یہ ایک نہیں ہو سکتے ہیں کفارہ اعمال حسنہ سے مستغنی کرتا ہے اور شفاعت اعمال حسنہ کی تحریک۔جو چیز اپنے اندر فلفہ نہیں رکھتی ہے وہ بیچ ہے۔ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ اسلامی اصول اور عقائد اور اس کی ہر تعلیم اپنے اندر ایک فلسفہ رکھتی ہے اور علمی پیرایہ اس کے ساتھ موجود ہے جو دوسرے مذاہب کے عقائد میں نہیں ملتا۔شفاعت اعمال حسنہ کی محرک کس طرح پر ہے؟ اس سوال کا جواب بھی قرآن شریف ہی سے ملتا ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ وہ کفارہ کا رنگ اپنے اندر نہیں رکھتی جو عیسائی مانتے ہیں کیونکہ اس پر حصر نہیں کیا جس سے کا ہلی اور سُستی پیدا ہوتی بلکہ فرمایا: إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَلَى فَإِنِّي قَرِيب (البقرة 187) یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں تجھ سے سوال کریں کہ وہ کہاں ہے؟ تو کہہ دے کہ میں قریب ہوں۔قریب والا تو سب کچھ کرسکتا ہے، ڈور والا کیا کرے گا؟ اگر آگ لگی ہوئی ہو تو دور والے کو جب تک خبر پہنچے اُس وقت تک تو شائد وہ جل کر خاک سیاہ بھی ہو چکے۔اس لئے فرمایا کہ کہہ دو میں قریب ہوں۔پس یہ آیت بھی قبولیتِ دعا کا ایک راز بتاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت پر ایمان کامل پیدا ہو اور اُسے ہر وقت اپنے قریب یقین کیا جاوے اور ایمان ہو کہ وہ ہر پکار کو سنتا ہے۔بہت سی دُعاؤں کے رڈ ہونے کا یہ بھی سر ہے کہ دُعا کرنے والا اپنی ضعیف الایمانی سے دُعا کو مسترد کرالیتا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ دُعا کو قبول ہونے کے لائق بنایا جاوے کیونکہ اگر وہ دُعا خدا تعالیٰ کی شرائط کے نیچے نہیں ہے تو پھر اس کو خواہ سارے نبی بھی مل کر کریں تو قبول نہ ہوگی اور کوئی فائدہ اور نتیجہ اس پر مترتب نہیں ہو سکے گا۔اب یہ بات سوچنے کے قابل ہے کہ ایک طرف تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: صل عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلونَكَ سَكَن لَّهُمْ (التوبة 103) تيرى صلوۃ سے ان کو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور جوش و جذبات کی آگ سرد ہو جاتی ہے دوسری طرف فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي (البقرة187) كا بھی حکم فرمایا۔ان دونوں آیتوں کے ملانے سے دُعا کرنے اور کرانے والے کے تعلقات، 316