نُورِ ہدایت — Page 289
انہیں یہ معلوم ہوتا کہ دنیا میں جب سے انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری ہوا ہے اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ یہ سلوک رہا ہے کہ جب بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہی اس کی طرف سے نازل ہونے والی ہدایت کو قبول کیا اس کی بارگاہ پر جھک گئے اور اس کی راہ میں قربانیوں سے دریغ نہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے ان پر کس طرح اپنے انعامات نازل کئے اور انہیں کس طرح اپنے فضلوں کا وارث بنایا۔مگر جن لوگوں نے خدا تعالی کی اس آواز پر کان نہ دھرے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت کو ٹھکرا دیا اور اس کی قدر نہ کی وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے غضب کے بھنور میں پھنس کر ہلاکت سے دو چار ہوئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان منکرینِ اسلام کی تو یہ حالت ہے کہ گویا ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ فطرتی لحاظ سے ان کی آنکھوں پر کوئی غلاف نہیں تھا۔یہ تو انہوں نے خود اپنی آنکھوں پر چڑھا لیا ہے۔ان کی حالت اس گھوڑے یا گدھے کی مانند ہے جس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ چلتے وقت کسی چیز کے خوف سے ڈر نہ جائے۔پس انہوں نے بھی اس خوف سے کہ کہیں روحانیت کی کوئی جھلک ان کی آنکھوں میں نہ پڑ جائے ( جو دنیوی عارضی مسرتوں سے ان کو دُور لے جائے ) اپنی آنکھوں پر غلاف چڑھالئے ہیں جس کی وجہ سے یہ حسن و احسان کے روحانی جلوے دیکھنے سے قاصر ہیں۔بہر حال سورۃ بقرہ کی ان ابتدائی سترہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منکرین کا ذکر کر کے ان کی جسمانی کیفیات اور ان کے روحانی امراض کی طرف متوجہ کرتے ہوئے سامان عبرت مہیا فرمایا۔پھر ان کو جھنجھوڑ کر یہ انتباہ فرمایا کہ اگر تمہاری حالت یہی رہی تو تم حق کو ہر گز قبول نہیں کر سکتے۔تم قبولِ حق کی توفیق صرف اسی صورت میں پاسکتے ہو کہ تمہاری روحانی اور اخلاقی کیفیت یہ نہ ہو کہ ہمارے اس عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈرانا یا نہ ڈرانا تمہارے لئے برابر ہو۔چاہیے کہ اس کا ڈرانا تمہارے دلوں پر اثر انداز ہو۔جب تک تمہارے اندر یہ تبدیلی رونما نہیں ہوتی جب تک وہ مہر میں جو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے قلوب اور اپنے کانوں پر لگالی 289