نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 288 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 288

جدو جہد میں رواں دواں رہتی ہے۔غرض سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس ہدایت یافتہ گروہ کی بنیادی خصوصیات پر روشنی ڈالی ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک دوسرا گروہ منکرین اسلام کا گروہ ہے اور ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صداقت حقہ کے قبول کرنے اور دلی بشاشت کے ساتھ قربانیاں دینے کی جو قابلیتیں اور قوتیں عطا کی تھیں یہ ان کو کھو بیٹھے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں روحانی اثر کے قبول کرنے کی صلاحیت بخشی تھی جس سے یہ بہت کچھ سیکھ سکتے تھے لیکن ان کے دل پتھر ہو گئے اور اپنی فطرتی حالت میں نہیں رہے جو رقت کی اور رجوع کی اور تو بہ کی اور عاجزی کی حالت ہے اور چونکہ ان کے دل پتھر ہونے کی وجہ سے اپنی فطری حالت پر نہیں رہے اس لئے فطرتی دینی اعمال بجالانے کے قابل نہیں رہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے دل کی بہت سی دوسری امراض بتائیں اور ان کے علاج بھی بتائے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے اندر ایک چیز یہ بھی نظر آتی ہے کہ ہم نے انہیں سننے کے لئے کان دیے تھے اور سماع سے ہماری مراد یہ تھی کہ جب صوتی لہریں ہوا کے دوش پر ان کے کانوں تک پہنچیں تو پھر آگے ان کے اثرات ذہن پر پڑیں جس سے دل بھی متاثر ہوں کیونکہ قبول ہدایت کا ایک بڑا ذریعہ دل ہی ہے۔انسان جب نیکی کی باتیں غور سے سنتا ہے تو اس کا ذہن تدبر سے کام لیتے ہوئے ان کے اثرات کو دل کی طرف منتقل کر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں دل کے اندر ایک ایسا انقلاب اور ایک ایسا تغیر رونما ہوتا ہے کہ انسان قبول ہدایت کے لئے تیار ہو جاتا ہے لیکن انہوں نے اپنی بداعمالیوں کے نتیجہ میں کانوں پر مہر لگا دی ہے۔کوئی آواز ان کے کانوں میں پڑتی ہی نہیں۔صوتی لہریں ان کے کانوں سے ٹکراتی اور واپس ہو جاتی ہیں یا ایک کان میں گھستی ہیں اور دوسرے کان سے نکل جاتی ہیں۔پھر ان کو آنکھیں اس لئے دی تھیں کہ وہ اس دنیا میں خدائے حی و قیوم کے قادرا نہ تصرفات کا مشاہدہ کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے۔تاریخ عالم پر نگاہ ڈالتے ،مختلف آسمانی کتابوں کو غور سے پڑھتے اور پھر فکر وتدبر سے کام لیتے تو 288