نُورِ ہدایت — Page 286
برتن میں پاخانہ ڈال کر کھاؤں گا۔تو یہ سزا دینے کا عجیب طریق ہے کہ چونکہ فلاں سے میری لڑائی ہے۔اس لئے میں نے نماز باجماعت پڑھنا چھوڑ دی ہے۔جو شخص اس طرح کرتا ہے اس نے اپنے دشمن کو اپنے اوپر خود غالب کر لیا۔کیونکہ اس کے دشمن نے ایک تو اسے اپنے پاس سے دور کر دیا اور دوسرے خدا سے بھی دور کر دیا۔پس اس طرح اس نے اپنے دشمن کو نیچا نہیں دکھایا بلکہ خود نقصان اٹھایا ہے۔یہ سخت جہالت اور نادانی ہے کیونکہ کسی سے دشمنی کی وجہ سے نماز چھوڑنے کا ہر گز حکم نہیں۔نماز باجماعت ادا کرنے کا خدا کا حکم ہے محمد بلا نیکی کا حکم ہے اور اس شریعت کا حکم ہے جس کے بعد کوئی نئی شریعت نہیں آئے گی اور اس شریعت کا حکم ہے جس کا ایک شعشہ بھی بدل نہیں سکتا۔پس یہ مت سمجھو کہ احمدی کہلانے سے خدا کے حکموں کو توڑنے کی اجازت ہوگئی ہے بلکہ پہلے کی نسبت بہت زیادہ فرض ہو گیا کہ ہر ایک حکم پر پورے طور پر عمل کرو۔اس لئے عقل اور دانائی سے کام لو اور خدا کے حکموں کومت توڑو کیونکہ اب تم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے اور شریعت کو اچھی طرح سمجھا ہے۔اب اگر اس کے خلاف کرو گے تو دوسروں کی نسبت خدا کے غضب کے زیادہ مستوجب بنو گے۔خدا تعالیٰ تمہیں توفیق دے کہ شریعت کے تمام احکام کی تم قدر کرو اور ان پر عمل پیرا ہو۔( خطبہ جمعہ فرمودہ 11 جولائی 1919ء - خطبات محمود ( سال 1919 ء ) صفحہ 262 تا 268) حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے دل میں یہ خواہش شدت سے پیدا کی گئی ہے کہ قرآن کریم کی سورۃ بقرہ کی ابتدائی سترہ آیتیں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔ہر احمدی کو یاد ہونی چاہئیں اور ان کے معانی بھی آنے چاہئیں اور جس حد تک ممکن ہو ان کی تفسیر بھی آنی چاہیے اور پھر ہمیشہ دماغ میں وہ مستحضر بھی رہنی چاہیے۔۔۔۔مجھے۔۔۔امید ہے کہ آپ میری روح کی گہرائی سے پیدا ہونے والے اس مطالبہ پر لبیک کہتے ہوئے ان آیات کو زبانی یاد کرنے کا اہتمام کریں گے۔مرد بھی 286