نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 262 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 262

مرتا ہے۔اس لئے منافق کی اس حالت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے عَذَاب الیم کے الفاظ استعمال کئے گئے کہ اُسے دُکھ کے ساتھ جلن کا مزہ بھی چکھنا پڑتا ہے۔وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ منافقوں کا فساد کئی رنگ میں ظاہر ہوتا تھا (1) وہ مہاجرین اور انصار میں فساد ڈلوانے کی کوشش کرتے رہتے تھے اور قومی سوال کو اپنے بد اغراض کو پورا کرنے کے لئے آڑ بناتے رہتے تھے۔کبھی یہ لوگ قومی گنہگاروں کی پیٹھ ٹھونکتے تھے کہ تا وہ جوش میں آ کر اسلام سے برگشتہ ہو جائیں۔کبھی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے اعمال پر معترض ہوتے تا کہ لوگوں میں بددلی پھیلائیں۔جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَتِ (توبه 58) یعنی ان منافقوں میں سے وہ بھی ہیں جو تیری صدقات کی تقسیم پر معترض ہوتے ہیں۔اس سے ان کی غرض یہ ہوتی تھی کہ جن کو صدقہ میں سے مال نہ ملا ہو ان میں بد دلی پیدا ہو۔اسی طرح آپ کے متعلق اعتراض کرتے کہ هُوَ أُذُن (توبه (61) وہ تو کان ہی کان ہے یعنی اس نے تو چاروں طرف جاسوس چھوڑ رکھے ہوئے ہیں۔کوئی آدمی آزادی سے اپنے خیالات ظاہر نہیں کرسکتا۔کبھی مشکلات کے وقت مسلمانوں میں بددلی پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔جیسا کہ فرماتا ہے۔وَإِن تُصِبكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُوا قَدْ أَخَذْنَا امْرَنَا مِن قَبْلُ (توبه 50) یعنی اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مخلصین صحابہ کو کوئی نقصان جنگ میں پہنچتا تو کہتے کہ دیکھا یہ ہمارے مشورہ پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ہم نے پہلے ہی صورتِ حالات کو بھانپ لیا تھا اور اس جنگ میں شامل نہ ہوئے تھے۔کبھی کفار کو مسلمانوں کے خلاف جوش دلاتے۔اسی طرح ایک فساد کا طریق یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش کرتے تھے۔غرض منافق طرح طرح سے ملک میں فساد پیدا کرتے تھے اور اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اس طرح فساد پیدا کرنے سے کیا فائدہ۔ایسا نہ کرو۔تو وہ یہ جواب دیتے کہ 262