نُورِ ہدایت — Page 259
کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے دھوکا کرنے سے مراد یہ ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کے رسول اور مومنوں سے دھو کے کا معاملہ کرتے ہیں۔وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ میں اس حقیقت کو ظاہر کیا گیا ہے کہ منافقوں کے غیر مخلصانہ افعال خود ان کے لئے وبال بن جائیں گے۔کیونکہ جو شخص دھوکے سے کام لیتا ہے آخر اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے اور وہ دنیا اور آخرت میں ذلیل ہوتا ہے۔پس جبکہ وہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ میں دوسروں کو دھوکا دے رہا ہوں وہ در حقیقت اپنے نفس کو دھوکا دے رہا ہوتا ہے اور خود اپنی تباہی کے سامان کر رہا ہوتا ہے۔وَمَا يَشْعُرُونَ اور وہ سمجھتے نہیں۔شعور کے معنے بار یک امور کے جاننے کے ہوتے ہیں۔قرآن کریم میں اس کے مشابہ الفاظ علم ، عرفان، عقل اور فکر کے استعمال ہوئے ہیں۔بظاہر ید الفاظ مشابہ ہیں لیکن ان سب الفاظ کے معانی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔چنانچہ علم اس قسم کے جاننے کے لئے آتا ہے جو باہر سے پیدا ہو۔یعنی سن کر یا دیکھ کر یا مچھو کر یا چکھ کر پیدا ہو۔اسی طرح عرفان اس علم کو کہتے ہیں جو دوبارہ حاصل ہو کیونکہ عرفان پہچاننے کو کہتے ہیں اور پہچانتا انسان اُس شے کو ہے جس کا علم اسے پہلے حاصل ہو چکا ہو۔عقل اس قوت کو کہتے ہیں کہ جو انسان کو علم ، فکر اور شعور کے مطابق کام کرنے کی توفیق بخشتی ہے اور عاقل وہ ہے جو علم صحیح ، فکر صحیح اور شعور صحیح کے مطابق کام کرے اور اپنے نفس کو ان کے خلاف چلنے سے روکے۔فکر اس قوت کا نام ہے جو بیرونی علم سے نتائج اخذ کرنے میں مدد دیتی ہے۔اور شعور اس حس کو کہتے ہیں جو اندر سے پیدا ہوتی ہے اور فطرت صحیحہ کو معلوم کرنے کا نام ہے۔پس وَمَا يَشْعُرُونَ کے یہ معنے ہوئے کہ دھوکا دینا ایک ایسا فعل ہے جس کے خلاف فطرت صحیحہ گواہی دیتی ہے مگر یہ لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے مذہب کو تو کیا سمجھنا ہے خود اپنے نفس کو بھی نہیں سمجھتے اور نہیں جانتے کہ منافقت ان افعال قبیحہ میں سے ہے کہ جن کو فطرت صحیحہ بھی رڈ کرتی ہے اور کسی دوسرے شخص کے بتانے کی بھی ضرورت نہیں۔259