نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 254 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 254

سنتے تھے۔پس سننے کے لئے مفرد کا لفظ استعمال کیا کہ گویا سب ایک ہی کان سے سنتے تھے۔ایک سوال اس آیت کے بارہ میں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ دلوں اور کان کے لئے تو مہر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو زیادہ سخت ہے لیکن آنکھوں کے لئے پردہ کا لفظ استعمال کیا ہے جو ہٹ بھی سکتا ہے لیکن سورۃ نحل رکوع 14 میں فرماتا ہے طَبَعَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَسَمْعِهِمْ وَ أَبْصَارِهِمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُون یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں، ان کے کان اور ان کی آنکھوں پر مہر لگادی ہے۔اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ پہلے انسان اپنے دل میں غور کرتا ہے پھر بات سن کر ہدایت پاتا ہے اور جب یہ بھی نہ ہو تو معجزات کو دیکھتا ہے۔معجزات کلام کے بعد آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں اس لئے آنکھوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیر میں مہر لگائی جاتی ہے کیونکہ اس راستہ کے ذریعہ حجت دیر سے قائم ہوتی ہے۔پہلے پردے پڑتے ہیں پھر مہر لگتی ہے۔پس سورۃ بقرہ میں اس حالت کا ذکر ہے کہ جب ابھی مہر کا وقت نہ آیا تھا اور سورۃ نحل میں اس حالت کا ذکر ہے جبکہ معجزات کو دیکھ کر بھی ایک لمبے عرصہ تک انسان ایمان نہ لائے۔حمد اس جگہ یہ لطیفہ بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قلوب اور کانوں پر مہر لگانے کو تو اپنی طرف منسوب کیا ہے لیکن آنکھوں کے پردوں کو اپنی طرف منسوب نہیں کیا۔اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ کفار یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں سمجھ نہیں دی کہ ہم اس کی بار یک حکمتوں کو سمجھ سکیں اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں سنے کا موقعہ نہیں ملا۔گوحق یہ ہے کہ انہوں نے خود ہی نہیں سنا۔لیکن وہ اس بات کا کیا جواب دیں گے کہ خدا تعالی کی تائیدات اور نصرتیں ان کے دائیں اور بائیں اور سامنے ظاہر ہورہی ہیں۔انہیں انہوں نے کیوں نہیں دیکھا۔پس اس مضمون کو واضح کر دیا ہے کہ ختم کا خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جانا صرف نتیجہ فعل کے طور پر ہے ورنہ یہ دونوں نتائج بھی خود کفار کے اعمال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔جس طرح ان کا نشانات کو نہ دیکھنا ان کا اپنا فعل ہے۔254