نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 253 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 253

اعمال کا نتیجہ ہے۔جیسے فرما یا طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمُ (نساء (156) کہ اللہ نے اُن کے کفر کی وجہ سے اُن کے دلوں پر مہر کر دی ہے۔اگر کہا جائے کہ پھر کیا وجہ کہ اس آیت میں مہر لگانے کی نسبت خدا تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ انسان کے اعمال کا یہ نتیجہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے اس لئے ان آیات میں ختم اور طبع کی نسبت جناب الہی کی طرف کی گئی ہے۔ور نہ ایک دوسری آیت میں اس مہر کو خود کفار کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے أَفَلَا يَتَد برُونَ الْقُرْآنَ آمَ عَلَى قُلُوبِ أَقْفَالُهَا (محمد (25) یعنی کیا کفار قرآن کریم کے مضمون پر غور نہیں کرتے؟ یا یہ بات ہے کہ ان کے دلوں پر انہی کے دلوں سے پیدا شدہ قفل لگے ہوئے ہیں؟ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ مہر اور پردہ کوئی جسمانی چیز نہیں ہیں۔پر دہ اور ختم وغیرہ کے الفاظ بطور استعارہ ہیں۔وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیم میں جس بڑے عذاب کی خبر دی گئی ہے اس سے صرف بعد الموت کی جہنم کی سزا ہی مراد نہیں بلکہ سب سے زیادہ اس میں خدا تعالیٰ کی دوری کا ذکر ہے۔اس آیت کے بارہ میں ایک سوال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دل اور آنکھوں کو تو جمع بیان کیا اور کانوں کے لئے مفرد کا لفظ رکھا ہے اس میں کیا حکمت ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دلوں اور آنکھوں کا فعل ہر شخص کا جدا گانہ ہوتا ہے۔دلوں کی طاقتوں کا اس قدر فرق ہوتا ہے کہ کوئی تحت الثریٰ میں ہوتا ہے اور کوئی افلاک پر۔اسی طرح آنکھوں کے فعل سے اس جگہ معجزات اور نشانوں کو دیکھنا مراد ہے۔اس کا اندازہ بھی ہر شخص الگ الگ لگا تا ہے۔اور اس طرح گویا مختلف آنکھوں سے ان کو دیکھا جاتا ہے مگرسنی جانے والی شئے ایک معین چیز ہے یعنی قرآن کریم۔وہ معین الفاظ میں سب کے سامنے پڑھا جا تا تھا۔پس سوچنے میں گوسب مختلف تھے اور معجزات کا نظارہ کرنے میں بھی مختلف تھے مگر سننے میں مختلف نہ تھے کیونکہ ایک ہی کلام 253