نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 252 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 252

غور کر کے خود فیصلہ کر لے۔وہ کسی سے سن کر بات مان لیتا ہے۔تیسرے آنکھیں ہیں۔اگر کانوں سے سن کر ہدایت نہ پائے تو کم سے کم آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ جو باتیں مجھ سے کہی جاتی ہیں اُن کا نتیجہ دنیا میں کیا پیدا ہورہا ہے۔اگر نتیجہ اچھا نکل رہا ہوتو وہ معلوم کر سکتا ہے کہ گو کانوں سے سن کر وہ باتیں بھلی معلوم نہیں ہوتیں مگر مشاہدہ نے ان کی تصدیق کر دی ہے۔لیکن جو بد بخت ان تینوں باتوں سے عاری ہو وہ کبھی کوئی بات نہیں مان سکتا۔وہ ہمیشہ دکھ اٹھاتا ہے۔پس وہ انسان جو دنیا کی اشیاء پر غور کر کے خود صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا وہ اگر انبیاء کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں سنے تو اسے ہدایت مل سکتی ہے۔اگر ان کو سن کر اس کا دل فیصلہ نہ کر سکے تو وہ خدا تعالیٰ کی قدرت کے جلوے اور نظارے دیکھ کر مان سکتا ہے کہ وہ کس کی تائید میں ہیں۔اور اگر وہ نہ خود سوچے اور نہ علم کی باتوں کو سنے اور نہ خدا تعالیٰ کے نشانات کو دیکھے تو اس کا انجام اس کے سوا کیا ہوگا کہ وہ دکھوں میں پڑ جائے۔اس آیت کا یہ مطلب نہیں جیسا کہ مخالفین اسلام نے اس سے نتیجہ نکالا ہے کہ خدا تعالیٰ جبر اکفار کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگا دیتا ہے اور ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیتا ہے۔یہ تو ظلم ہے اور قرآن کریم خدا تعالیٰ سے ظلم کی نفی فرماتا ہے۔دوسرے اگر ان معنوں کو تسلیم کیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ خود بعض بندوں کے لئے کفر کو پسند کرتا ہے۔حالانکہ قرآن کریم میں ہے وَلَا يَرْضَى لِعِبَادِهِ الْكُفْرَ (الزمر 8) کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے کفر کو نا پسند کرتا ہے۔تیسرے ان معنوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جبر سے بعض لوگوں سے کفر کرواتا ہے۔لیکن قرآن کریم اس مضمون کو بھی رد کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْ مِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ (کھف (30) یعنی جو چاہے اللہ کی طرف سے نازل شدہ کلام پر ایمان لے آئے اور جو چاہیے اس کا انکار کر دے۔اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے یہ مہر اور پردہ انسان کے اپنے ہی 252