نُورِ ہدایت — Page 236
خیال رکھتے اور انہیں اچھی طرح بجالاتے ہیں۔اس جگہ یا درکھنا چاہئے کہ گو شریعت کا حکم ہے کہ نماز کو اس کی مقررہ شرائط کے ماتحت ادا کیا جائے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جب مجبوری ہو اورشرائط پوری نہ ہوتی ہوں تو نما ز کوترک ہی کر دے۔نماز بہر حال شرائط سے مقدم ہے۔اگر کسی کو صاف کپڑا میسر نہ ہو تو وہ گندے کپڑوں میں ہی نماز پڑھ سکتا ہے خصوصاً وہم کی بناء پر نماز کا ترک تو بالکل غیر معقول ہے۔جیسا کہ ہمارے ملک میں کئی عورتیں اس وجہ سے نماز ترک کر دیتی ہیں کہ بچوں کی وجہ سے کپڑے مشتبہ ہیں۔اور کئی مسافر نماز ترک کر دیتے ہیں کہ سفر میں طہارت کامل نہیں ہوسکتی۔یہ سب شیطانی وساوس ہیں لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (بقرہ 287) البہی حکم ہے۔جب تک شرائط کا پورا کرنا اختیار میں ہو اُن کے ترک میں گناہ ہے۔لیکن جب شرائط پوری کی ہی نہ جاسکتی ہوں تو اُن کے میسر نہ آنے کی وجہ سے نماز کا ترک گناہ ہے اور ایسا شخص معذور نہیں بلکہ نماز کا تارک سمجھا جائے گا۔پس اس بارہ میں مومنوں کو خاص طور پر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔(3) تیسرے معنے اقامہ کے کھڑا کرنے کے ہیں ان معنوں کے رُو سے يُقِيمُونَ الصَّلوة کے معنے یہ ہوئے کہ وہ نماز کو گرنے نہیں دیتے۔یعنی ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ ان کی نماز درست اور با شرائط ادا ہو۔اس میں ان مشکلات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو نماز پڑھنے والے مبتدی کو زیادہ اور عارف کو کسی کسی وقت پیش آتی رہتی ہیں۔یعنی اندرونی یا بیرونی تاثرات نماز سے توجہ ہٹا کر دوسرے خیالات میں پھنسا دیتے ہیں۔یہ امر انسانی عادت میں داخل ہے کہ اس کا خیال مختلف جہات کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے اور خاص صدموں یا جوش یا محبت کے اثر کے سوا جبکہ ایک وقت تک خیالات میں کامل یکسوئی پیدا ہو جاتی ہے انسانی دماغ ادھر اُدھر گھومتا رہتا ہے اور ایک خیال سے دوسرا خیال پیدا ہو کر ابتدائی خیال سے کہیں کا کہیں لے جاتا ہے۔اسی طرح بیرونی آوازیں یا پاس کے لوگوں کی حرکات یا کھٹکے، بو یا خوشبو، جگہ کی سختی یا نرمی اور اسی قسم کے اور امور انسانی ذہن کو ادھر سے اُدھر پھرا دیتے ہیں۔یہی مشکلات نمازی کو پیش آتی ہیں اور اگر اپنے خیالات پر پورا قابو نہ ہو تو اسے پریشان 236