نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 235 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 235

نظروں سے پوشیدہ ہو تب بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو۔یعنی اس کا ایمان صرف قومی نہ ہو کہ جب اس کے ہم مذہب لوگ اس کے سامنے ہوں تب تو وہ ان عقائد کو تسلیم کرے جو اس کے مذہب نے اس کے سامنے پیش کئے ہیں۔لیکن جب وہ اپنے لوگوں سے جُدا ہو تو اس کا ایمان کمزور ہو جائے۔يُقِيمُونَ الصَّلوةَ۔اقامة الصلوۃ کے معنے (1) باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کے ہیں کیونکہ قام علی الامر کے معنے کسی چیز پر ہمیشہ قائم رہنے کے ہیں۔پس يُقِيمُونَ الصَّلوة کے یہ معنے ہوئے کہ نماز میں ناغہ نہیں کرتے۔ایسی نماز جس میں ناغہ کیا جائے اسلام کے نزدیک نماز ہی نہیں کیونکہ نماز وقتی اعمال سے نہیں بلکہ اُس وقت مکمل عمل سمجھا جاتا ہے جبکہ تو بہ یا بلوغت کے بعد کی پہلی نماز سے لے کر وفات سے پہلے کی آخری نماز تک اس فرض میں ناغہ نہ کیا جائے۔جولوگ درمیان میں نمازیں چھوڑتے رہتے ہیں اُن کی سب نمازیں ہی رڈ ہو جاتی ہیں۔پس ہر مسلمان کا فرض ہے کہ جب وہ بالغ ہو یا جب اُسے اللہ تعالیٰ توفیق دے اُس وقت سے موت تک نماز کا ناغہ نہ کرے کیونکہ نماز خدا تعالیٰ کی زیارت کا قائم مقام ہے اور جو شخص اپنے محبوب کی زیارت سے گریز کرتا ہے وہ اپنے عشق کے دعوی کے خلاف خود ہی ڈگری دیتا ہے۔(2) دوسرے معنے اقامة کے اعتدال اور درستی کے ہیں۔ان معنوں کے رُو سے يُقِيمُونَ الصَّلوةَ کے یہ معنے ہیں کہ متقی نماز کو اُس کی ظاہری شرائط کے مطابق ادا کرتے ہیں اور اس کے لئے جو قواعد مقرر کئے گئے ہیں ان کو توڑتے نہیں۔مثلاً تندرستی میں یا پانی کی موجودگی میں وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں اور وضو بھی ٹھیک طرح ان شرائط کے مطابق ادا کرتے ہیں جو اس کے لئے شریعت نے مقرر کی ہیں۔اسی طرح صحیح اوقات میں نما زادا کرتے ہیں۔نماز میں قیام، رکوع، سجدہ اور قعدہ کو عمدگی سے ادا کرتے ہیں۔مقررہ عبارات اور دعائیں اور تلاوت اپنے اپنے موقع پر اچھی طرح اور عمدگی سے پڑھتے ہیں۔غرض تمام ظاہری شرائط کا 235