نُورِ ہدایت — Page 232
دعا دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔لفظ صلوۃ کے ایک معنے حُسنُ الثَّنَاءِ مِنَ اللهِ عَلَى الرَّسُولِ کے بھی ہیں یعنی جب صلّی فعل کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو اور مفعول آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ہو تو اس وقت اس کے معنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم کی بہترین تعریف کے ہوتے ہیں۔(اقرب) وَيُسَى مَوْضِعُ الْعِبَادِةِ الصَّلوۃ اور عبادتگاہ کو بھی الصلوة کہہ دیتے ہیں (مفردات) پس يُقِيمُونَ الصَّلوة کے معنے ہوں گے (1) نماز کو باجماعت ادا کرتے ہیں(2) نماز کو اس کی شرائط کے مطابق اور اس کے اوقات میں صحیح طور پر ادا کرتے ہیں (3) لوگوں کو نماز کی تلقین کر کے مساجد کو بارونق بناتے ہیں (4) نماز کی محبت اور خواہش لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں (5) نماز پر دوام اختیا کرتے ہیں اور اس پر پابندی اختیار کرتے ہیں (6) نماز کو قائم رکھتے ہیں یعنی گرنے سے بچاتے رہتے اور اس کی حفاظت میں لگے رہتے ہیں۔رَزَقْنَا : - رزقی سے متکلم مع الغیر کا صیغہ ہے اور الرزُقُی ( جو رزق کا مصدر ہے ) کے معنے ہیں العطاء عطا کرنا، دینا۔جیسے کہتے ہیں رُزقت علما کہ مجھے علم دیا گیا ہے۔اور اس کے ایک معنی حصہ کے بھی ہیں۔جیسے وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِبُونَ (الواقعه : 83) کہ تم نے اپنے ذمہ یہ کام لگا لیا ہے کہ رسول اور خدا کی باتوں کا انکار کرتے ہو ( مفردات) اقرب الموارد میں ہے۔الرِّزْقُ مَا يُنْتَفَعُ بِهِ۔ہر وہ چیز جس سے نفع اٹھایا جائے۔اور رَزَقَهُ اللهُ (يَرْزُقُ) رِزْقًا کے معنے ہیں اوصَلَ إِلَيْهِ رِزْقًا کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے ایسی اشیاء عطا فرمائیں جن سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔رزق اس چیز کو بھی کہتے ہیں جو غذا کے طور پر استعمال کی جائے (مفردات)۔يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے یہ معنے ہر گز نہیں کہ متقی وہ ہیں جو بغیر دلیل کے قرآن کریم کی باتوں کو مان لیتے ہیں کیونکہ یہ معنے قرآن کریم کی دوسری آیات کے خلاف ہیں۔ریورنڈ ویری نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے نیچے لکھا ہے کہ جب مسلمان اپنی کتاب 232