نُورِ ہدایت — Page 229
ساتھ تعلق نہیں رکھتی بلکہ ہر انسان میں پیدا کی گئی ہے۔پس اس تعریف کے مطابق تقویٰ کے معنے فطرت کی حفاظت کے ہیں۔نہ کہ کسی خاص مذہب یا عقیدہ کے۔اور یہ ظاہر ہے کہ ہدایت وہی لوگ پاسکتے ہیں جو فطرت کو گندے اثرات سے پاک رکھتے ہیں ورنہ جولوگ فطرت کو پاک رکھنے کی کوشش نہیں کرتے اور صداقت کے ماننے سے انکار کرتے ہیں وہ ہدایت نہیں پاسکتے۔ان کو ہدایت تبھی مل سکتی ہے جب جبر سے کام لیا جائے اور قرآن کریم جبر کے خلاف ہے۔خلاصہ یہ کہ اوپر کی تعریف کے رُو سے اس آیت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ جولوگ صداقت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں قرآن کریم ان کو ہدایت دیتا ہے اور اعلیٰ مدارج تک پہنچاتا ہے۔اور جولوگ ہدایت کو ماننے کے لئے تیار ہی نہ ہوں وہ گو یا اپنی ہلاکت کا خود ہی فیصلہ کر دیتے ہیں اور انہیں ہدایت جبر ہی سے دی جاسکتی ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جبر سے جو ہدایت ملے اس کا فائدہ جبر کرنے والے کو حاصل ہوسکتا ہے، اسے نہیں ہو سکتا جسے ہدایت دی جائے۔جیسے مثلاً کسی سے زبر دستی مال چھین کر صدقہ کر دیا جائے تو اس صدقہ کا کوئی فائدہ اُسے نہیں مل سکتا جو صدقہ کا قائل ہی نہیں اور صدقہ دینا ہی نہیں چاہتا۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس آیت میں دوسری کتب کی موجودگی میں قرآن کریم کی ضرورت کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ غیر الہامی کتب کی موجودگی میں تو اس کی یہ ضرورت ہے کہ بغیر آسمانی ہدایت کے انسان ہدایت پاہی نہیں سکتا۔اس لئے آسمانی ہدایت کی ضرورت تھی جسے قرآن کریم نے پورا کیا ہے اور الہامی کتب کی موجودگی میں اس کی یہ ضرورت ہے کہ (1) اس سے پہلے سب ہدایت نامے نامکمل تھے۔یہ کمل ہے (2) ان میں خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں اور یہ سب خرابیوں سے محفوظ ہے ( 3 ) وہ سب ہدایت نامے ایک ایک قوم اور مذہب کے لئے تھے اور یہ ہدایت نامہ سب قوموں کے لئے ہے اور سب قوموں کے بزرگوں کی عزت قائم کرنے اور سب ضائع شدہ ہدایتوں کو زندہ کرنے کے لئے آیا ہے۔(4) ان کتب میں بوجہ 229