نُورِ ہدایت — Page 230
اندرونی بیرونی نقائص کے وصال الہی پیدا کرنے کی خاصیت باقی نہ رہی تھی اب اس کے ذریعہ سے پھر انسان کو وصال الہی حاصل کرنے اور کلام الہی سے مشرف ہونے کا موقعہ دیا جائے گا وغیر بادغیر ہا۔يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ میں غیب سے مراد ہر وہ چیز ہے جو حواس ظاہری سے معلوم نہ کی جا سکے اور سرسری نظر میں انسانی عقلیں اس تک نہ پہنچ سکیں ( مفردات ) لسان میں ہے وَقَوْلُهُ تعالى يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ أَن يُؤْمِنُونَ بِمَا غَابَ عَنْهُمْ لَه يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْیب میں غیب کے یہ معنے ہیں کہ جو باتیں ان کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں اُن پر ایمان لاتے ہیں۔وَالْغَيْبُ مَا غَابَ عَنِ الْعُيُونِ وَإِنْ كَانَ مُحَضَّلَّا فِي الْقُلُوبِ أَوْ غَيْرَ مُحَضّل اور غیب کا لفظ ہر اس امر پر بولا جاتا ہے جو آنکھوں سے پوشیدہ ہو خواہ وہ ایسا امر ہو کہ دماغی طور پر اس کا علم حاصل ہو یا ایسا ہو کہ عقلاً بھی اس کا علم حاصل ہو كُلُّ مَكَانٍ لَا يُدْرَى مَا فِيهِ فَهُوَ غيب۔ہر وہ جگہ جس کے متعلق معلوم نہ ہو کہ اس کے اندر کیا ہے اس کو غیب کہتے ہیں۔وَكَذلِكَ الْمَوْضِعُ الَّذِى لا يدرى مَا وَرَاءَهُ۔اور اسی طرح اُس جگہ پر بھی غیب کا لفظ بولتے ہیں جس کے پیچھے کی اشیاء کا علم نہ ہو۔نیز کہتے ہیں۔غابَ الرَّجُلُ غَيْبًا أَى سَافَرَ أَوْ بَان - که فلاں شخص نے سفر کیا یا کسی سے جدا ہو گیا۔پس غیب ہر وہ امر ہے جو آنکھوں سے پوشیدہ ہو، نہ یہ کہ وہ موہوم اور بے ثبوت ہو۔پس۔يُؤْمِنُونَ بِالْغَیب کے معنے ہوں گے (1) ہر وہ چیز (امر) جو ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتی اور ظاہری حواس اُسے پانے سے قاصر ہیں لیکن وہ موجود ہے اور ایمانیات میں داخل ہے اس کے حق ہونے پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں۔(2) اس زندگی کے بعد کے پیش آنے والے حالات پر پختہ یقین رکھتے ہیں (3) نیز اس کے یہ بھی معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ غیبوبت کی حالت میں یعنی علیحدگی میں بھی ایمان رکھتے ہیں اور ان میں منافقوں کی طرح دورنگی نہیں پائی جاتی۔230