نُورِ ہدایت — Page 194
نصیحت کی جائے یا نہ کی جائے ایمان نہیں لائیں گے یا مراتب کاملہ تقویٰ و معرفت تک نہیں پہنچیں گے۔غرض ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے کھول کر بتلا دیا کہ ہدایت قرآنی سے صرف متقی منتفع ہو سکتے ہیں جن کی اصل فطرت میں غلبہ کسی ظلمت نفسانی کا نہیں اور یہ ہدایت ان تک ضرور پہنچ رہے گی۔لیکن جو لوگ متقی نہیں ہیں نہ وہ ہدایت قرآنی سے کچھ نفع اٹھاتے ہیں اور نہ یہ ضرور ہے کہ خواہ مخواہ ان تک ہدایت پہنچ جائے۔خلاصہ جواب یہ ہے کہ دنیا میں دوطور کے آدمی پائے جاتے ہیں۔بعض متقی اور طالب حق جو ہدایت کو قبول کر لیتے ہیں اور بعض مفسد الطبع جن کو نصیحت کرنا نہ کرنا برابر ہوتا ہے۔( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 201 تا202) خَتَمَ اللهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَ عَلى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ خدا تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ انسان اپنے نفس پر آپ ظلم کرتا ہے۔عادۃ اللہ یہ ہے کہ جب ایک فعل یا عمل انسان سے صادر ہوتا ہے تو جو کچھ اس میں اثر مخفی یا کوئی خاصیت چھپی ہوئی ہوتی ہے خدا تعالیٰ ضرور اس کو ظاہر کر دیتا ہے۔مثلاً جس وقت ہم کسی کوٹھڑی کے چاروں طرف سے دروازے بند کر دیں گے تو یہ ہمارا ایک فعل ہے جو ہم نے کیا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس پر اثر یہ مترتب ہوگا کہ ہماری کوٹھڑی میں اندھیرا ہو جائے گا اور اندھیرا کرنا خدا کا فعل ہے جو قدیم سے اس کے قانونِ قدرت میں مندرج ہے۔ایسا ہی جب ہم ایک وزن کافی تک زہر کھالیں گے تو کچھ شک نہیں کہ یہ ہمارا فعل ہوگا۔پھر بعد اس کے ہمیں ماردینا یہ خدا کا فعل ہے جو قدیم سے اس کے قانونِ قدرت میں مندرج ہے۔غرض ہمارے فعل کے ساتھ ایک فعل خدا کا ضرور ہوتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا اور اُس کا نتیجہ لازمی ہوتا ہے۔سو یہ انتظام جیسا کہ ظاہر سے متعلق ہے ایسا ہی باطن سے بھی متعلق ہے۔ہر ایک ہمارا نیک یا بد کام ضرور اپنے ساتھ ایک اثر رکھتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا ہے۔194