نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 193 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 193

که آید كريمه وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُون میں تینوں وحیوں کا ذکر ہے۔مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ سے قرآن شریف کی وحی اور مَا اُنْزِلَ مِن قَبْلِكَ سے انبیاء سابقین کی وحی اور آخرۃ سے مراد مسیح موعود کی وحی ہے۔آخرة کے معنے ہیں پیچھے آنے والی۔وہ پیچھے آنے والی چیز کیا ہے؟ سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ یہاں پیچھے آنے والی چیز سے مراد وہ وحی ہے جو قرآن کریم کے بعد نازل ہوگی کیونکہ اس سے پہلے وحیوں کا ذکر ہے۔ایک وہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ، دوسری وہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل نازل ہوئی اور تیسری وہ جو آپ کے بعد آنے والی تھی۔ریویو آف ریلیجز، جلد 14 نمبر 4 بابت ماہ مارچ واپریل 1905 ، صفحہ 164 حاشیہ) أولَئِكَ عَلى هُدى مَنْ تَعِيمُ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یعنی جن لوگوں میں مذکورہ بالا اوصاف موجود ہوں وہ لوگ اپنے پروردگار کی سیدھی راہ پر ہیں اور وہی لوگ نجات یابندہ اور فرقہ ناجیہ کے لوگ ہیں۔یہی طریق نجات ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے۔یہ راستہ کیا صاف اور سیدھا ہے۔طالب نجات کو لازم ہے کہ وہ اپنی عقل کو الہام و وحی الہی کے ماتحت چلائے ورنہ بھٹک جائے گا۔الحکم جلد 8 نمبر 34 ، 35 مورخہ 10 تا 17 اکتوبر 1904 ، صفحہ 9) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرُهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ۔۔۔۔۔حمد اس جگہ خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ جولوگ خدائے تعالیٰ کے علم میں ہدایت پانے کے لائق ہیں اور اپنی اصل فطرت میں صفت تقویٰ سے متصف ہیں وہ ضرور ہدایت پا جائیں گے۔اور پھر ان آیات میں جو اس آیت کے بعد میں لکھی گئی ہیں اسی کی زیادہ تر تفصیل کردی اور فرمایا کہ جس قدر لوگ ( خدا کے علم میں ) ایمان لانے والے ہیں وہ اگر چہ ہنوز مسلمانوں میں شامل نہیں ہوئے پر آہستہ آہستہ سب شامل ہو جائیں گے اور وہی لوگ باہر رہ جائیں گے جن کو خدا خوب جانتا ہے کہ طریقہ ء حقہ اسلام قبول نہیں کریں گے اور گو ان کو 193