نُورِ ہدایت — Page 186
ہے ایسی تصویر دکھائی جاتی ہے جس سے دیکھنے والے کو پتہ ملتا ہے کہ اس کا منشاء یہ ہے۔ایسا ہی صلوۃ میں منشاء الہی کی تصویر ہے۔نماز میں جیسے زبان سے کچھ پڑھا جاتا ہے ویسے ہی اعضا اور جوارح کی حرکات سے کچھ دکھایا بھی جاتا ہے جب انسان کھڑا ہوتا ہے اور تحمید و تسبیح کرتا ا ہے اُس کا نام قیام رکھا ہے اب ہر ایک شخص جانتا ہے کہ حمدوثنا کے مناسب حال قیام ہی ہے۔بادشاہوں کے سامنے جب قصائد سنائے جاتے ہیں تو آخر کھڑے ہو کر ہی پیش کرتے ہیں۔ادھر تو ظاہری طور پر قیام رکھا ہی ہے اور زبان سے حمد و ثنا بھی رکھی ہے۔مطلب اس کا یہی ہے کہ روحانی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو۔حمد ایک بات پر قائم ہو کر کی جاتی ہے جو شخص مصدق ہو کر کسی کی تعریف کرتا ہے تو وہ ایک رائے پر قائم ہو جاتا ہے اس الحمد للہ کہنے والے کے واسطے یہ ضروری ہوا کہ وہ بچے طور پر الحمد للہ اسی وقت کہہ سکتا ہے کہ پورے طور پر اس کو یقین ہو جائے کہ جمیع اقسام محامد کے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔جب یہ بات دل میں انشراح کے ساتھ پیدا ہوگئی تو یہ روحانی قیام ہے کیونکہ دل اس پر قائم ہو جاتا ہے۔اور وہ سمجھا جاتا ہے کہ کھڑا ہے۔حال کے موافق کھڑا ہو گیا تا کہ روحانی قیام نصیب ہو۔پھر رکوع میں سُبحان ربی العظیم کہتا ہے۔قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی کی عظمت مان لیتے ہیں تو اس کے حضور جھکتے ہیں عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کے لئے رکوع کرے۔پس سُبحان ربي العظيم زبان سے کہا اور حال سے جھکنا دکھایا۔یہ اس قول کے ساتھ حال دکھایا۔پھر تیسرا قول ہے سُبْحَانَ رَبِّي الأعلى، اَفْعَلُ التَّفضِیل ہے۔یہ بالذات سجدہ کو چاہتا ہے۔اس لئے اس کے ساتھ حالی تصویر سجدہ میں گرے گا۔اور اس اقرار کے مناسب حال ہیئت فی الفور اختیار کرلی۔اس قال کے ساتھ تین حال جسمانی ہیں ایک تصویر اس کے آگے پیش کی ہے ہر ایک قسم کا قیام بھی کرتا ہے زبان جو جسم کا ٹکڑا ہے اس نے بھی کہا اور وہ شامل ہوگئی۔تیسری چیز اور ہے وہ اگر شامل نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی وہ کیا ہے؟ وہ قلب ہے۔اس کے 186