نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 182 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 182

پوری مردانگی سے مقابلہ کرے۔حکم جلد 5 نمبر 6 مؤرخہ 17 فروری 1901 ، صفحہ 1 تا 2) تقومی۔۔۔کسی قدر تکلف کو چاہتا ہے۔اسی لئے تو فرمایا کہ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَیب۔اس میں ایک تکلف ہے۔مشاہدہ کے مقابل ایمان بالغیب لانا ایک قسم کے تکلف کو چاہتا ہے۔سو متقی کے لئے ایک حد تک تکلف ہے کیونکہ جب وہ صالح کا درجہ حاصل کرتا ہے تو پھر غیب اس کے لئے غیب نہیں رہتا کیونکہ صالح کے اندر سے ایک نہر نکلتی ہے جو اس میں سے نکل کر خدا تک پہنچتی ہے۔وہ خدا اور اس کی محبت کو اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے۔کہ من كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أعمى (بنی اسرائیل (73)۔اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب تک انسان پوری روشنی اسی جہان میں نہ حاصل کر لے وہ کبھی خدا کا منہ نہ دیکھے گا سو تقی کا کام یہی ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے سرمے طیار کرتا رہے جس سے اس کا روحانی نزول الماء دور ہو جاوے۔اب اس سے ظاہر ہے کہ متقی شروع میں اندھا ہوتا ہے مختلف کوششوں اور تزکیوں سے وہ نور حاصل کرتا ہے۔سو جب سوجا کھا ہو گیا اور صالح بن گیا پھر ایمان بالغیب نہ رہا اور تکلف بھی ختم ہو گیا جیسے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو برأَي الْعَيْنِ اسی عالم میں بہشت و دوزخ وغیرہ سب کچھ مشاہدہ کرایا گیا جو متقی کو ایک ایمان بالغیب کے رنگ میں ماننا پڑتا ہے وہ تمام آپ کے مشاہدہ میں آ گیا۔سو اس آیت میں اشارہ ہے کہ متقی اگر چہ اندھا ہے اور تکلف کی تکلیف میں ہے۔لیکن صالح ایک دارالامان میں آ گیا ہے اور اُس کا نفس نفس مطمئنہ ہو گیا ہے۔متقی اپنے اندر ایمان بالغیب کی کیفیت رکھتا ہے۔وہ اندھا دھند طریق سے چلتا ہے اُس کو کچھ خبر نہیں۔ہر ایک بات پر اُس کا ایمان بالغیب ہے۔یہی اُس کا صدق ہے اور اس صدق کے مقابل خدا کا وعدہ ہے کہ وہ فلاح پائے گا أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اس کے بعد متقی کی شان میں آیا ہے۔وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ یعنی وہ نماز کو کھڑی کرتا ہے۔یہاں لفظ کھڑی کرنے کا آیا ہے، یہ بھی اُس تکلف کی طرف اشارہ کرتا ہے جو متقی کا خاصہ ہے۔یعنی جب وہ نماز شروع کرتا ہے تو طرح طرح کے وساوس کا اُسے مقابلہ ہے جن کے باعث 182