نُورِ ہدایت — Page 174
قرآن شریف نے شروع میں ہی فرمایا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ پس قرآن شریف کے سمجھنے اور اس کے موافق ہدایت پانے کے لئے تقویٰ ضروری اصل ہے۔ایسا ہی دوسری جگہ فرمایا: لا يمسه إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة : 80) دوسرے علوم میں یہ شرط نہیں۔ریاضی، ہندسہ وہیئت وغیرہ میں اس امر کی شرط نہیں کہ سیکھنے والا ضرور متقی اور پرہیز گار ہو بلکہ خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہی ہو وہ بھی سیکھ سکتا ہے مگر علم دین میں خشک منطقی اور فلسفی ترقی نہیں کر سکتا اور اس پر وہ حقائق اور معارف نہیں کھل سکتے۔جس کا دل خراب ہے اور تقویٰ سے حصہ نہیں رکھتا اور پھر کہتا ہے که علوم دین اور حقائق اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں وہ جھوٹ بولتا ہے ہر گز ہرگز اسے دین کے حقائق اور معارف سے حصہ نہیں ملتا بلکہ دین کے لطائف اور نکات کے لئے متقی ہونا شرط ہے۔یہ خوب یاد رکھو کہ تقویٰ تمام دینی علوم کی کنجی ہے انسان تقویٰ کے سوا ان کو نہیں سیکھ سکتا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا : الم - ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ۔يه كتاب تقویٰ کرنے والوں کو ہدایت کرتی ہے اور وہ کون ہیں الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔یعنی ابھی وہ خدا نظر نہیں آتا اور پھر نماز کو کھڑی کرتے ہیں یعنی نماز میں ابھی پورا سرور اور ذوق پیدا نہیں ہوتا تاہم بے لطفی اور بے ذوقی اور وساوس میں ہی نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ خرچ کرتے ہیں اور جو کچھ تجھ پر یا تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اُس پر ایمان لاتے ہیں۔متقی کے ابتدائی مدارج اور صفات ہیں۔حکم جلد 11 نمبر 3 مؤرخہ 24 جنوری 1907 ، صفحہ 7) اسلام نے بہت ہی آسان راہ رکھی ہے اور وہ کشادہ راہ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا ہے اهدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اب اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا سکھائی ہے تو اس طور پر نہیں کہ دُعا تو سکھا دی لیکن سامان کچھ نہیں۔بلکہ جہاں دُعا سکھائی ہے وہاں سب کچھ موجود ہے چنانچہ انگلی سورت میں اس قبولیت کا اشارہ ہے جہاں فرمایا۔ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ 174