نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 142 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 142

قرآنی آیات سے بھی ان معنوں پر استدلال ہو سکتا ہے کیونکہ یہود کی نسبت قرآن کریم میں بار بار غضب کا لفظ استعمال ہوا ہے۔مثلاً سورہ بقرہ میں ہی فرماتا ہے۔فَبَاؤُوُا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبِ (البقرة (91) یہود خدا کے متواتر غضب کو لے کر اس طرح بن گئے کہ گویا خدا تعالیٰ کا غضب انہی کے لئے ہے۔اس کے برخلاف نصاری کے لئے ضل کا لفظ آیا ہے جیسے فرماتا ہے الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا ( کهف 105) اسی طرح سورۃ مائدہ میں مسیحیوں کا ذکر کر کے اور مسیح اور ان کی والدہ کو خدائی کا رتبہ دینے کا بیان کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا هَلَ الْكِتَبِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَلْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَن سَوَاءِ السَّبِيل (مائده 78) اے اہلِ کتاب ( یعنی نصاری کیونکہ اس جگہ انہی کا ذکر ہے ) اپنے مذہبی خیالات میں غلو سے کام نہ لو اور ایسے لوگوں کے خیالات اور ان کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو جو پہلے سے گمراہ چلے آ رہے ہیں اور بہتوں کو گمراہ کر چکے ہیں اور سیدھے راستہ سے بھٹک چکے ہیں۔یعنی عام نصاری کو بتایا ہے کہ سب نصاری شرک کے عقیدہ کے قائل نہ تھے۔ان میں سے موحد بھی تھے اور مشرک بھی۔مشرک گروہ جو مسیح کو خدا قرار دیتا تھا وہ خود بھی گمراہ تھا اور اس نے باقی مسیحیوں میں بھی اپنا عقیدہ پھیلانا شروع کیا اور اکثر حصہ کو اس گمراہی کے عقیدہ پر لے آیا۔اور جو سیدھا راستہ توحید کا تھا اُسے چھوڑ دیا۔غرض قرآن کریم سے بھی اور اقوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ مغضوب علیہم میں خاص طور پر یہود مراد ہیں اور ضالین سے خاص طور پر نصاریٰ مراد ہیں۔یہ آیت الَّذِينَ کا یا أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں جو ھم کی ضمیر ہے اس کا بدل ہے۔اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ اے اللہ ہمیں منعم علیہ گروہ کے راستہ پر چلا اور منعم علیہ سے ہماری مراد ایسے منعم علیہ ہیں جو بعد میں تیرے غضب کے مورد نہ ہو گئے ہوں یا جو کسی اور کی محبت میں تجھے چھوڑ نہ بیٹھے ہوں۔اس مضمون میں مومن کے لئے خشیت کا بہت بڑا سامان مہیا ہے۔اسے یادرکھنا چاہئے کہ جب 142