نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 137 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 137

اگر تو اس کا جواب یہ مفسر اور ان کے ہمنوا یہ دیں کہ ہاں یہ ممکن ہے کہ ایک غیر نبی تقویٰ طہارت اور قرب الی اللہ میں نبی سے بڑھ کر ہو تو پھر نزاع لفظی رہ جاتی ہے۔لیکن اگر اس سوال کا جواب یہ ہو کہ غیر نبی ، نبی سے ان باتوں میں افضل نہیں ہوسکتا تو جو شخص یہ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ظلی بروزی اور نبوت محمدیہ کی تابع نبوت بھی نہیں ہوسکتی وہ یہ کہتا ہے کہ اس امت میں کوئی شخص قرب الی اللہ کے اس مقام کو نہیں پہنچ سکتا جس مقام پر پہلے لوگ پہنچے تھے اور ایسا دعویٰ کرنے والا شخص یقیناً امت محمدیہ کو انعام سے محروم قرار دیتا ہے۔مثلا ایک اعتراض انہی مفسر صاحب نے یہ کیا ہے کہ پھر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ تیرہ سوسال میں ایک مسلمان کی بھی دعا اس بارہ میں قبول نہ ہوئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دعا کی قبولیت تو دعا کی مقدار اور نوعیت پر منحصر ہے۔یہ معترض صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں کہ صدیقیت کا مقام اس اُمت میں مل سکتا ہے۔پس یہی سوال ان کے مسلمات کے متعلق بھی کیا جا سکتا ہے کہ اس امت میں کتنے لوگوں کو صد یقیت کا مقام ملا ہے۔اگر گزشتہ تیرہ سوسال میں صرف ابوبکر کو ملا ہے تو یہی اعتراض پھر بھی پڑے گا کہ کیا تیرہ سو سال میں یہ دعا اور کسی کے حق میں قبول ہی نہ ہوئی۔اور اگر اوروں کو بھی ملا ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کیا وہ اشخاص عمر اور عثمان اور علی سے بڑھ کر تھے یا کم۔اگر کم تھے تو پھر یہ کیونکر ہوا کہ کم درجہ کے لوگ رض رض صدیق بن گئے اور بڑے درجہ کے لوگ شہید تک ترقی پا سکے۔صدیق نہ کہلا سکے۔غرض جو اعتراض نبوت کے اجرا پر ہوتا ہے وہی اعتراض صد یقیت کا دروازہ کھلا تسلیم کر کے اس پر ہوتا ہے۔پس یہ اعتراض محض قلت تدبر کی وجہ سے ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ فاتحہ کو اُم القرآن اور ام الکتاب بھی فرمایا ہے اور قرآن عظیم بھی فرمایا ہے گویا ایک طرف اسے ذریعہ پیدائش قرار دیا دوسری طرف اسے وہ چیز بھی قرار دیا جو اس سے پیدا ہوئی ہے۔اس میں ایک زبر دست روحانی نکتہ نکلتا ہے اور وہ یہ 137