نُورِ ہدایت — Page 134
نہیں ہو گا بلکہ صرف یہ ہوگا کہ ان کے کچھ افراد انعام پانے والوں کے ساتھ رہیں گے اور ان معنوں کو قرآن، حدیث اور عقل سلیم رڈ کرتی ہے۔اگر کہا جائے کہ مع کا لفظ در حقیقت اس تشریح کے ساتھ لگتا ہے جو أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ کی اس آیت میں کی گئی ہے تو بھی یہ اعتراض بالبدا بہت غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ تشریح میں چار گروہوں کا ذکر ہے۔نبیوں، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحوں کا۔اب اگر مع کے معنے صرف معیت کے ہیں نہ کہ گروہ میں شمولیت کے تو پھر اس تشریح کے مطابق اس آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ مسلمان نبی نہ ہوں گے بلکہ نبیوں کے ساتھ رہیں گے۔صدیق نہ ہوں گے بلکہ صدیقوں کے ساتھ رہیں گے۔اسی طرح شہید اور صالح نہ ہوں گے بلکہ شہیدوں اور صالحوں کے ساتھ رہیں گے۔اس سے زیادہ غلط معنے اور کیا ہو سکتے ہیں۔اور اس سے زیادہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور امت محمدیہ کی ہتک کیا ہوسکتی ہے کہ اس امت میں نبی تو الگ رہے، صدیق اور شہید اور صالح بھی نہ ہوں گے۔اس جگہ یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین ہیں تو آپ کے بعد نبی کس طرح آسکتا ہے؟ سواس اعتراض کا جواب بھی سورۂ نساء کی آیت میں موجود ہے کیونکہ اس آیت میں وَ مَنْ يُطِعِ اللهَ وَالرَّسُول کے الفاظ ہیں۔یعنی اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے کو یہ انعام ملیں گے۔اور یہ ظاہر ہے کہ جو مطیع ہو گا اس کا کام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام سے الگ نہیں ہوسکتا۔نہ وہ کوئی شریعت لا سکتا ہے۔پس جو نبی محمد رسول اللہ کے تابع ہو گا وہ خاتم النبیین کے خلاف نہیں بلکہ اس کے معنوں کو مکمل کرنے والا ہوگا۔ایک صاحب جو اس زمانہ کے مفسر ہیں اور اپنے ترجمہ قرآن کریم کو بار بار پیش کرنے کے عادی ہیں۔انہوں نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ اگر یہ دُعا نبوت کے حصول کے لئے ہوتی تو کم از کم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام نبوت سے کھڑا ہونے سے پہلے سکھائی جاتی مگر قرآن کریم میں اس کا موجود ہونا بتاتا ہے کہ مقام نبوت کے ملنے کے بعد سکھائی گئی۔134