نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 133 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 133

وَأَشَدَّ تَقبِيْتًا وَإِذَ الأَتَيْنَهُمْ مِنْ لَّدُنَا اَجْرًا عَظِيمًا وَلَهَدَيْنَهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا۔وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّنِ والصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (نساء 7068) (یعنی اگر کمزور مسلمان بجائے نافرمانیوں کے حقیقی اطاعت کا نمونہ دکھائیں اور ) جو ان سے کہا جاتا ہے اس پر عمل کریں تو اس کا نتیجہ ان کے حق میں بہت ہی اچھا نکلے۔اور اس سے ان کے ایمان مضبوط ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے انہیں بہت بڑا اجر ملے اور اللہ تعالیٰ انہیں صراط مستقیم دکھائے اور انہیں یا درکھنا چاہئے کہ جو اللہ اور اس کے اس رسول یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے منعم علیہ لوگوں میں شامل کرتا ہے۔یعنی نبیوں میں صدیقوں میں شہیدوں میں اور صالحین میں۔اور یہ لوگ بہت ہی اچھے ساتھی ہیں۔اس آیت میں مسلمانوں کے لئے جو انعامات مقدر ہیں ان کا ذکر ہے اور وہی سورۃ فاتحہ والے الفاظ میں یعنی صراط مستقیم دکھانا اور صراط مستقیم بھی ان کا جو منعم علیہ گروہ تھا۔اس منعم علیہ گروہ کی تشریح فرمائی ہے نبی، صدیق ، شہید اور صالح۔جس سے معلوم ہوا کہ امت محمدیہ کو سورہ فاتحہ میں جن اعلیٰ انعامات کے طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے دینی لحاظ سے اس سے مراد اعلیٰ روحانی مقامات ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سب کے سب مسلمانوں کو ملیں گے۔بعض لوگ اس موقعہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ سورۃ نساء کی آیت میں مَعَ الَّذِينَ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمُ ہے۔یعنی وہ منعم علیہ گروہ کے ساتھ ہوں گے، نہ کہ اُن میں سے۔اس اعتراض کی کمزوری خود ہی ظاہر ہے۔اگر مع کا لفظ نبیوں کے ساتھ ہوتا تب تو کہا جا سکتا تھا کہ امت محمدیہ میں نبی نہ ہوں گے مگر ایسے لوگ ہوں گے جو نبیوں کے ساتھ رہیں گے لیکن قرآن کریم نے مَعَ کا لفظ انْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ کے ساتھ لگایا ہے۔پس اگر مع کے معنے یہ کئے جائیں کہ جس لفظ پر مع آیا ہے وہ درجہ مسلمانوں کو نہ ملے گا بلکہ اس درجہ کی معیت ملے گی تو پھر اس آیت کے یہ معنی بنیں گے کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی منعم علیہ یعنی انعام پانے والا 133