نُورِ ہدایت — Page 132
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا میں ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہیں کہ وہ ہماری اس طریق کی طرف راہنمائی کرے جواچھا اور نیک ہو اور جس پر چل کر ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں اور جلد سے جلد کامیاب ہوں۔کیسی سادہ اور کیسی مکمل یہ دعا ہے اور پھر کیسی وسیع ہے۔زندگی کا وہ کونسا مقصد ہے جس کے متعلق ہم اس دعا کو استعمال نہیں کر سکتے۔جو شخص اپنے کاموں میں ان اصول کو مدنظر رکھے گا کہ (1) میرے سب کام جائز ذرائع سے ہوں (2) میں کسی ایک مقام پر پہنچ کر تسلی نہ پا جاؤں بلکہ غیر محدود ترقی کی خواہش میرے دل میں رہے (3) اور میرا وقت ضائع نہ ہو بلکہ ایسے طریق سے کام کروں کہ تھوڑے سے تھوڑے وقت میں ہر کام کو پورا کرلوں، اس کے مقاصد کی بلندی اور اس کے اعمال کی درستی اور اس کی محنت کی باقاعدگی میں کیا شک کیا جا سکتا ہے۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے الفاظ نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سے مل کر معنوں میں بہت وسعت پیدا کر دی ہے۔ان الفاظ نے ایک مسلمان کا مقصود صرف یہ نہیں قراردیا کہ وہ اپنے مقرر کردہ مقاصد کے حصول کے لئے سیدھا راستہ مانگے بلکہ یہ اصل قرار دیا ہے کہ وہ مقاصد عالیہ کے بارہ میں بھی اللہ تعالیٰ سے التجا کرے اور درخواست کرے کہ ہدایت کے راستے ہی مجھے نہ دکھا اور صرف منعم علیہ گروہ میں مجھے شامل نہ کر بلکہ ہدایت کے وہ طریقے اور تعلیمیں اور عرفان کی راہیں بھی مجھے سکھا جو منعم علیہ گروہ پر اس سے پہلے ظاہر کئے جاچکے ہیں یہ اعلیٰ امیدیں پیدا کر کے قرآن کریم نے امت محمدیہ پر ایک بہت بڑا احسان فرمایا ہے۔گو اس واضح تعلیم کی موجودگی میں اس امر کے ثبوت کے لئے کہ مسلمانوں کے لئے ہر قسم کی ذاتی ترقیات کے راستے کھلے ہیں کسی مزید ثبوت کی ضرورت تو نہ تھی مگر چونکہ مسلمانوں میں عام طور پر مایوسی پیدا ہوگئی ہے۔ہم قرآن کریم سے دیکھتے ہیں کہ اس ہدایت طلبی کے معنے قرآن کریم نے کیا لئے ہیں اور کیا اس دُعا کی قبولیت کا بھی کوئی وعدہ کیا ہے یا نہیں؟ سورۃ نساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوْعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ 132