نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 124 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 124

اقتدار حاصل ہو۔ملک فرشتہ۔اور ملك بادشاہ یعنی جسے سیاسی اقتدار حاصل ہو۔يوم۔اس کے معنی مطلق وقت کے ہوتے ہیں قرآن کریم میں ہے۔اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبَّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (الحج 48) خدا تعالیٰ کا بعض دن ہزار سال کا ہوتا ہے۔سیبویہ کا قول ہے کہ عرب کہتے ہیں۔انا الْيَوْمَ أَفْعَلُ كَذَا لَا يُرِيدُونَ يَوْمًا بِعَيْنِهِ وَلَكِنَّهُمْ يُرِيدُونَ الْوَقْتَ الْحَاضِرَ (لسان العرب) یعنی جب کہتے ہیں کہ میں آج کے دن اس اس طرح کروں گا۔تو اس سے مراد چوبیس گھنٹہ والا دن نہیں ہوتا۔بلکہ اس سے مراد صرف موجودہ وقت ہوتا ہے۔اسی طرح الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ جو قرآن کریم میں آتا ہے۔اس سے بھی مُراد معروف دن نہیں بلکہ زمانہ اور وقت مراد ہے (لسان العرب ) پھر لکھا ہے وَقَد يُرَادُ بِالْيَوْمِ الْوَقْتُ مُطلَقًا وَمِنْهُ الْحَدِيثُ تِلْكَ آيَامُ الْهَرَجِ أَىٰ وَقْتُهُ (لسان العرب) یعنی کبھی یوم سے مطلق وقت مراد ہوتا ہے جیسے حدیث میں ہے کہ یہ دن فتنہ اور لڑائی کے دن ہیں۔مراد یہ کہ یہ فتنہ اور لڑائی کا زمانہ ہے۔* الدِّينُ الْجَزَاء وَالْمُعَافَأَةُ بدله - الطاعَةُ اطاعت۔الحِسَابُ۔محاسبہ۔الْقَهْرُ وَ الْغَلَبَةُ وَالْإِسْتِعْلَاءُ غَلَبَةُ السُّلْطَانِ وَالْمَلِكِ وَالْحُكُم۔تصرف حکومت - السيرَةُ - خصلت - التَّدْبِيرُ - تدبير - اسم لِلجَمِيعِ مَا يُعْبَدُ بِهِ اللهُ وه تمام طریقے جن سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے وہ سب دین کہلاتے ہیں۔یعنی شریعت۔نیز اس کے معنی ہیں الْمَلةُ مذہب - اَلْوَرَعُ نیکی۔الْمَعْصِيَةُ نافرمانی - اَلْحَالُ - کیفیت۔الْقَضَاءُ فیصلہ - الْعَادَةُ عادت الشأن خاص حالت (اقرب) آیت کے یہ معنی ہوئے کہ اللہ تعالیٰ جزا سزا کے وقت کا مالک ہے۔شریعت کے وقت کا مالک ہے۔فیصلہ کے وقت کا مالک ہے۔شریعت کے وقت کا مالک ہے۔مذہب کے زمانہ کا مالک ہے۔نیکی کے زمانہ کا مالک ہے۔گناہ کے زمانہ کا مالک ہے۔محاسبہ کے وقت کا مالک ہے۔اطاعت کے وقت کا مالک ہے۔غلبہ کے وقت کا مالک ہے۔124