نُورِ ہدایت — Page 123
ہے اور کم سے کم اس کے دل میں بار بار نیک عمل بجالانے کی خواہش ضرور پائی جاتی ہے۔پس ہر دفعہ جب نیک عمل کی جزا بندہ کوملتی ہے اور نیکی کرنے کی طاقت اور اس کے بار بار بجالانے کی خواہش اور بھی ترقی کر جاتی ہے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اس پر پھر رحم کرتا ہے اور مومن کی نیکی کی خواہش اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے اور وہ نیکی کے کاموں میں اور بھی بڑھ جاتا ہے اور اس طرح رحم بار بار نازل ہوتا جاتا ہے۔گو یا اللہ تعالیٰ کا رحم صرف گذشتہ فعل پر انعام کا رنگ ہی نہیں رکھتا بلکہ آیندہ نیکی کے لئے ایک بیج کا کام بھی دیتا ہے۔در حقیقت محدود عمل کا خیال ہندوؤں میں محض اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ انہوں نے جنت کو بیکاری اور بے عملی کا ایک مقام سمجھ لیا ہے اور ان کو سمجھنا بھی ایسا ہی چاہئے کیونکہ وہ نجات کے معنی نروان یعنی تمام خواہشات اور اعمال سے آزاد ہونا سمجھتے ہیں۔پس ان کے نزدیک عمل اسی دنیا میں ختم ہو جاتا ہے اور اس وجہ سے محدود ہوتا ہے۔اور چونکہ عمل محدود ہوتا ہے ان کے نزدیک اس کا بدلہ بھی محدود ہونا چاہیئے۔مگر اسلام بار بار رحم اور بار بار عمل کے مسئلہ کو پیش کرتا ہے اور جنت کو دارالعمل ہی قرار دیتا ہے۔جب خدا تعالیٰ رب العالمین ہے تو جنت بھی تو ایک عالم ہے وہاں بھی ترقی ہوگی۔ورنہ رب العالمین صحیح نہیں ٹھہرتا۔اور جب انسان وہاں بھی ترقی کرے گا تو لازماً اس کے تقویٰ اور اس کی محبت الہی میں بھی ترقی ہوگی اور جب ان چیزوں میں ترقی ہو گی تو اس ترقی کے مقابل پر اللہ تعالیٰ کا رحم بھی پھر سے نازل ہوگا۔اور جب یہ رحم اور عمل کا بار بار تبادلہ ہوتا رہے گا تو نجات کا وقت محدود کس طرح ہو سکتا ہے۔اس دنیا اور اگلے جہاں کے عمل میں صرف یہ فرق ہے کہ اس دنیا میں تنزل کا خطرہ بھی ساتھ لگا ہوا ہے۔مگر اگلے جہان میں صرف ترقی ہوگی تنزیل نہ ہو گا۔ورنہ روحانی عمل اور روحانی ترقی وہاں بھی ہوگی۔پس محدود عمل اور غیر محدود جزاء کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ مالِكُ مَلَكُ اور مَلِكُ تين ملتے جلتے لفظ ہیں۔مالک جسے کسی چیز پر جائز قبضہ اور 123