نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 122 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 122

ترقی میں محمد ہوتے ہیں اور بار یک دربار یک سامان پیدا کر کے مخفی در مخفی قوتوں کو قوت ظہور عطا فرمائی ہے۔اور ترقی کے ذرائع بہم پہنچائے ہیں۔انسان حیوان نباتات جمادات سب اپنے گردو پیش سے متاثر ہور ہے ہیں۔اور اپنے قیام یا اپنی تکمیل کے سامان حاصل کر رہے ہیں۔(2) و رحیم ہے پس جب کوئی مخلوق اپنے فرائض کو اچھی طرح ادا کرتی ہے تو اس کی قدر دانی کی جاتی ہے اور اس پر خاص فضل کیا جاتا ہے اور مزید ترقی کی اس میں اُمنگ پیدا کی جاتی ہے اور اسی طرح یہ سلسلہ لامتناہی طور پر چلا جاتا ہے۔الرحمن۔ایسی صفت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس کا استعمال دوسروں پر نہیں ہوتا سوائے اضافت کے جیسا کہ مسلیمہ کذاب اپنے آپ کو رحمن یمامہ کہلواتا تھا۔اس کے معنی جیسا کہ بتایا جا چکا ہے بلا مبادلہ اور بلا استحقاق رحم کرنے کے ہیں۔اور اس مفہوم میں کفارہ کا رد پایا جاتا ہے۔کیونکہ کفارہ کی بنیاد اس خیال پر ہے کہ اللہ تعالیٰ بلا استحقاق رحم نہیں کر سکتا۔مسیحیوں کو اس کا اس قدر احساس ہے کہ عرب کے نصاریٰ بھی جب اپنی تصنیفات یا خطوں پر خدا تعالیٰ کا نام لکھتے ہیں تو بسم اللہ کے بعد اور صفات کا ذکر کر دیتے ہیں۔رحمن کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔سوائے ایسے شخص کے جو اسلامی تمدن سے متاثر ہو۔مثلاً یہ لکھ دیں گے۔بسم اللہ الکریم الرَّحِیم یا اور کوئی صفت بیان کر دیں گے۔رحمن کا لفظ استعمال نہیں کریں گے۔کیونکہ ان کا دل مانتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ رحمن ہے تو پھر اس کے لئے مسیح کا کفارہ لئے بغیر بندوں کے گناہ بخشنا کچھ بھی مشکل نہیں۔رحیم کی صفت میں تناسخ کارڈ ہے۔کیونکہ تناسخ کی بنیاد محدود عمل کی غیر محدود جزا نہ مل سکنے کا عقیدہ ہے۔صفت رحیم بتاتی ہے کہ محدود عمل کی غیر محدود جز انہیں ملتی بلکہ نیک عمل کی خاصیت یہ ہے کہ وہ مکر رہوتا ہے۔پس اس کے بدلہ میں جزا بھی مکر ملتی ہے۔رحیم کا لفظ بار بار رحم کرنے پر دلالت کرتا ہے اور بار بار رحم کے معنے یہ نہیں کہ ایک ہی فعل کا بار بار انعام ملتا ہے بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ جو شخص نیکی کی حقیقت کو سمجھتا ہے وہ بار بار نیک اعمال بجالاتا 122