نُورِ ہدایت — Page 120
وقت ہونی چاہئے جب اللہ تعالیٰ کی صفت رب العالمین ظاہر ہو۔جوشخص اپنے فائدہ پر خوش ہوتا ہے اور دُنیا کے نقصان کی طرف نگاہ نہیں کرتا۔وہ اسلام کی تعلیم کو نہیں سمجھتا۔حقیقی خوشی یہی ہے کہ سب دنیا آرام میں ہو۔(6) یہ فرما کر کہ اللہ تعالیٰ رَبُّ العالمین ہے۔اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے ربوبیت کا محل ہے یعنی ارتقا کے قانون کے ماتحت ہے۔یہ بتایا ہے کہ دنیا میں کوئی چیز نہیں جس کی ابتدا اور انتہا یکساں ہو۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز تغیر پذیر ہے۔اور ادمی حالت سے ترقی کر کے اعلیٰ کی طرف جاتی ہے۔جس سے دو امر ثابت ہوتے ہیں۔اوّل خدا تعالیٰ کے سوا ہر شے مخلوق ہے کیونکہ جو چیز ترقی کرتی اور تغیر پکڑتی ہے وہ آپ ہی آپ نہیں ہوسکتی۔دوسرے ارتقا کا مسئلہ درست ہے۔ہر شے ادنیٰ حالت سے اعلیٰ کی طرف گئی ہے خواہ انسان ہوں خواہ حیوان۔خواہ نباتات ہوں خواہ جمادات۔کیونکہ رب العالمین کے معنی یہ ہیں کہ ہر شے کو ادنیٰ حالت سے اعلیٰ کی طرف لے جا کر اللہ تعالیٰ کمال تک پہنچاتا ہے پس ثابت ہوا کہ ارتقا کا مسئلہ دنیا کی ہر شے میں جاری ہے۔(7) نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ ارتقا مختلف وقتوں اور مدارج (STAGES) میں حاصل ہوتا ہے۔کیونکہ رب کے معنی ہیں۔اِنْشَاءُ الشَّيْء حَالًا فَحَالًا إلى حَدِ التَّمامِ چیز کو مختلف وقتوں اور مختلف درجوں میں ترقی دیکر کمال تک پہنچانا ( نہ کہ ایک ہی کڑی کو مکمل کرنا )۔(8) یہ بھی معلوم ہوا کہ ارتقا اللہ تعالیٰ کے وجود کے منافی نہیں۔کیونکہ فرمایا کہ الحمد لله رب العالمین ارتقا کے ذریعہ سے پیدائش خدا تعالیٰ کے عقیدہ کے خلاف نہیں پڑتی۔بلکہ اس سے وہ حمد کا مستحق ثابت ہوتا ہے۔اسی لئے ربّ العالمین کے ساتھ الحمد الله کے الفاظ استعمال فرمائے۔(9) اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان کو لامتناہی ترقیات کے لئے پیدا کیا 120