نُورِ ہدایت — Page 1194
آیات اتری ہیں کہ ان جیسی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔اور وہ یہ ہیں یعنی قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ۔( صحیح مسلم - کتاب صلوة المسافرین وقصرھا۔باب فضل قراءة المعوذتين) پھر احادیث میں تینوں قل پڑھنے کی اہمیت کے بارے میں روایت آتی ہے۔حضرت عقبہ بن عامر جہنی بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں ایک جنگی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی مہار پکڑ کر آگے آگے چل رہا تھا کہ آپ نے فرمایا اے عقبہ ! پڑھ۔میں نے آپ کی طرف کان لگایا تا کہ آپ جو فرمائیں وہ میں سن کر پڑھوں۔پھر کچھ دیر کے بعد فرمایا اے عقبہ پڑھ۔میں پھر متوجہ ہوا کہ آپ کیا فرماتے ہیں۔کیا پڑھوں میں؟ آپ نے تیسری مرتبہ پھر یہی فرمایا تو میں نے عرض کیا۔کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا سورۃ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ۔پھر آپ نے آخر تک سورۃ پڑھی۔پھر آپ نے سورۃ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ آخر تک پڑھی۔میں بھی آپ کے ساتھ پڑھتا رہا۔پھر آپ نے سورۃ قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ آخر تک پڑھی۔میں بھی آپ کے ساتھ پڑھتا رہا۔پھر آپ نے فرمایا کسی شخص نے ان جیسی سورتوں یا کلام کے ساتھ اللہ تعالی کی پناہ حاصل نہیں کی۔“ ( سنن النسائی کتاب الاستعاذة حديث 5430) یعنی یہ ایسا کلام اور ایسی دعا ہے کہ جس سے انسان اللہ تعالی کی پناہ میں آجاتا ہے اور کبھی ضائع نہیں ہوتا اور تمام شرور سے بچتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا اس سے بہتر اور کوئی ذریعہ ہی نہیں۔اور احادیث میں ایسی روایت ملتی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اس سے بہتر اللہ تعالیٰ کی اور کوئی پناہ نہیں۔پھر سورۃ فلق اور الٹاس کے بارے میں حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑے چل رہا تھا۔آپ نے فرمایا اے عقبہ ! کیا میں تجھے ایسی دو سورتیں نہ سکھاؤں جن کی قراءت انتہائی بہتر اور نفع بخش ہے۔میں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں یا رسول اللہ۔تو آپ نے فرما یا قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ 1194