نُورِ ہدایت — Page 112
کا استعمال بھی دُعا کے وقت ضروری ہے۔ہاں اگر وہ موجود نہ ہوں تو پھر ملِكِ يَوْمِ الدّین کی صفت اسباب سے بالا ہوکر ظاہر ہوتی ہے۔ایک اشارہ اس آیت میں یہ بھی کیا گیا ہے کہ دُعا کرنے والا دوسروں سے بخشش کا معاملہ کرتا ہو اور اپنے حقوق کے طلب کرنے میں سختی سے کام نہ لیتا ہو۔چھٹا اصل یہ بتایا ہے کہ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ سے کامل تعلق ہو اور اس سے کامل اخلاص حاصل ہو اور وہ شرک اور مشرکانہ خیالات سے کلی طور پر پاک ہو۔اور ساتویں بات یہ بتائی ہے کہ وہ خدا کا ہی ہو چکا ہو اور اس کا کامل تو کل اسے حاصل ہو اور غیر اللہ سے اس کی نظر بالکل ہٹ جائے اور وہ اس مقام پر پہنچ جائے کہ خواہ کچھ ہو جائے اور کوئی بھی تکلیف ہو مانگوں گا تو خدا تعالیٰ ہی سے مانگوں گا۔یہ سات امور وہ ہیں کہ جب انسان ان پر قائم ہو جائے تو وہ لِعَبْدِی مَا سَأَل کا مصداق ہو جاتا ہے اور حق بات یہ ہے کہ اس قسم کی دُعا کا کامل نمونہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے کامل اتباع نے ہی دکھایا ہے اور انہی کے ذریعہ سے دُعاؤں کی قبولیت کے ایسے نشان دُنیا نے دیکھے ہیں جن سے اندھوں کو آنکھیں اور بہروں کو کان اور گونگوں کو زبان عطا ہوئی ہے۔مگر اشباع رسول کا مقام بھی کسی کے لئے بند نہیں۔جو چاہے اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے کوشش کر سکتا ہے اور اس مقام کو حاصل کر سکتا ہے۔بخاری نے سعید ابن المعنی سے ایک روایت کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آؤئیں تمہیں قرآن کریم کی سب سے بڑی سورۃ سکھاؤں اور پھر سورۃ فاتحہ سکھائی ( بخاری کتاب فضائل القرآن باب فاتحۃ الکتاب) آپ نے جو اسے أعْظَمُ السُّوَر فرمایا تو اس کے یہی معنی ہیں کہ اس کے معانی اور مطالب لمبی لمبی سورتوں سے بھی زیادہ ہیں اور کیوں نہ ہو کہ یہ سارے قرآن کریم کے لئے بطور متن کے ہے۔سورۃ فاتحہ ہر نماز میں اور ہر رکعت میں پڑھنی ضروری ہے سوائے اس کے کہ مقتدی 112