نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 1165 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 1165

پر قبضہ کرلے۔بلکہ اس کی یہ خواہش بھی ہوگی کہ اسلام کا نام لینے والا اس دنیا میں کوئی باقی نہ رہے۔چونکہ اس قوم کو مادی طور پر ہر قسم کی طاقتیں حاصل ہونی تھیں اور مسلمان بوجہ ضعف و کمزوری کے اس قوم کا مقابلہ کرنے سے عاجز رہنے تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دعا سکھائی کہ اس خطرناک فتنہ سے بچنے کے لئے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرو تا وہ ایسے اسباب پیدا کر دے کہ اسلام نہ صرف اس دشمن کے حملوں سے محفوظ رہے بلکہ ضعف کے بعد اس پر پھر اس کی شان و شوکت کے دن آجائیں۔سورۃ الناس کے ابتداء میں اللہ تعالی کی تین صفات کا ذکر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کے ذریعہ سے پناہ مانگو۔چنانچہ فرما یا قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلهِ الناس۔یعنی یہ کہو کہ اے خدا جو رب ہے لوگوں کا ہم تیری پناہ مانگتے ہیں۔اے خدا جو بادشاہ ہے سب کا۔ہم تیری پناہ مانگتے ہیں۔اے خدا جو معبود ہے سب کا ہم تیری پناہ مانگتے ہیں اور یہ ظاہر بات ہے کہ جس چیز کی طرف نسبت دیکر پناہ مانگی جاتی ہے۔دراصل اسی چیز سے پناہ پانا مقصود ہوتا ہے۔مثلاً جب ہم کہتے ہیں اے گئے والے ہمیں بچا۔تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں کتنے سے بچا۔یا اگر ہم کسی ایسی جگہ جاتے ہیں جہاں کسی نے شیر پال رکھا ہو اور کہیں اے شیر والے دوڑ یو! تو معلوم ہوتا ہوگا کہ شیر سے بچنے کے لئے کہہ رہے ہیں۔پس جب ہم رَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ الهِ النَّاسِ کی پناہ مانگتے ہیں تو معلوم ہوا کہ ہم ناس کی ان خصوصیتوں سے پناہ مانگتے ہیں جن کا تعلق ربوبیت سے ہے یا ان خصوصیتوں سے پناہ مانگتے ہیں جن کا تعلق ملکیت سے ہے۔یا ان خصوصیتوں سے پناہ مانگتا ہوں جن کا تعلق اُلوہیت سے ہے۔ناس کی ربوبیت ڈیما کریسی کے ذریعہ سے ظاہر ہوتی ہے اور اس میں بھی بعض خرابیاں ہوتی ہیں اور۔ناس کی ملوکیت اقتدار سے ظاہر ہوتی ہے جو کسی قوم کو دوسرے ملکوں پر ہوتا ہے۔اور اس سے بھی کچھ خرابیاں ہوتی ہیں۔اور ناس کی الوہیت اس عام غیر مذہبی رو سے ظاہر ہوتی ہے جو کسی لا مذہب قوم میں پیدا ہو جاتی ہے اور جس کی وجہ سے اس 1165