نُورِ ہدایت — Page 1164
کرتے ہوئے اَعُوذُ پڑھنا چاہئے۔چونکہ یہ طریق مسنون ہے کہ قرآن کریم ختم کرتے ہی شروع کر دینا چاہئے، اس لئے نہایت عمدہ موقعہ پر یہ سورۃ ہے۔ماخوذ از حقائق الفرقان زیر تفسیر سورۃ الناس ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بدر مورخہ 22 جولائی 1909 صفحہ 2) سورۃ فاتحہ کا مضمون قرآن کریم کی آخری تین سورتوں میں دہرادیا گیا ہے۔گویا جس بنیاد پر قرآن کریم کو شروع کیا گیا تھا اسی پر آکر ختم کیا گیا ہے۔اس سورۃ کا دوسرا تعلق سورۃ لہب سے ہے۔سورۃ لہب میں ایک دشمن اسلام کے پیدا ہونے اور اس کے انجام کا ذکر تھا۔اس سورۃ میں اس دشمن کے متعلق بعض تفصیلات کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ کن کن ذرائع سے اسلام پر حملہ آور ہوگا۔اس سورۃ کا تیسرا تعلق سورۃ الفلق کی آخری آیت سے بھی ہے۔سورۃ الفلق کی آخری آیت وَ مِنْ شَرِ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایک عظیم الشان حاسد مسلمانوں کا پیدا ہونے والا ہے اور یہ کہ مسلمانوں کو اس کے شر سے بچنے کے لئے دعا کرتے رہنا چاہئے۔سورۃ الناس میں اس حاسد کے متعلق بتایا کہ وہ عیسائی قوم ہے۔اور وہ اس اس طرح اسلام پر حملہ کرے گی۔سورۃ لہب۔۔۔میں ایک ایسی قوم کے خروج کا ذکر ہے۔جس نے آخری زمانہ میں اسلام پر حملہ کرنا تھا۔اور یہ کوشش کرنی تھی کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کالا یا ہوا دین ختم ہو جائے۔سورۃ الفلق کی آخری آیت وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ میں بھی اسی قوم کے حملوں سے بچنے کی دعا امت محمدیہ کو سکھائی گئی تھی۔اور بتایا تھا کہ آخری زمانہ میں ایک طاقتور حاسد پیدا ہو گا جو اس بات کا متمنی ہو گا کہ نہ صرف یہ کہ وہ اسلامی حکومتوں کو ختم کر کے اسلامی ممالک 1164