نُورِ ہدایت — Page 1156
ساتھ لائے گا۔(ماخوذ از ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 296 297) اس سورہ میں تین قسم کے حق بیان فرمائے ہیں۔اوّل فرما یا کہ تم پناہ مانگو اللہ کے پاس جو جامع جمیع صفات کاملہ ہے۔اور جو رب ہے لوگوں کا۔اور ملک بھی ہے اور معبود ومطلوب حقیقی بھی ہے۔یہ سورہ اس قسم کی ہے کہ اس میں اصل توحید کو تو قائم رکھا ہے مگر مغایہ بھی اشارہ کیا ہے کہ دوسرے لوگوں کے حقوق بھی ضائع نہ کریں جو ان اسماء کے مظہر ظلی طور پر ہیں۔رب کے لفظ میں اشارہ ہے کہ گوحقیقی طور پر خدا ہی پرورش کرنے والا اور تکمیل تک پہنچانے والا ہے لیکن عارضی اور ظنی طور پر دو اور بھی وجود ہیں جور بوبیت کے مظہر ہیں۔ایک جسمانی طور پر ڈ وسرار وحانی طور پر۔جسمانی طور پر والدین ہیں اور روحانی طور پر مرشد اور بادی ہے۔(ماخوذ از روئیداد جلسه دعا، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 602_603) خدا تعالیٰ نے تکمیل اخلاق فاضلہ کے لئے رَبّ النَّاس کے لفظ میں والدین اور مر شد کی طرف ایماء فرمایا ہے تا کہ اس مجازی اور مشہود سلسلہ شکر گزاری سے حقیقی رب و بادی کی شکر گزاری میں قدم اُٹھائیں۔اسی راز کے حل کی یہ کلید ہے کہ اس سورہ شریفہ کو رب الناس سے شروع فرمایا ہے۔الہ الناس سے آغا ز نہیں کیا۔چونکہ مرشد روحانی خدا تعالیٰ کے منشاء کے موافق اس کی توفیق و ہدایت سے تربیت کرتا ہے اس لئے وہ بھی اسی میں شامل ہے۔پھر دوسرا ٹکڑا اس میں مَلِكِ النّاس ہے یعنی تم پناہ مانگو خدا کے پاس جو تمہارا بادشاہ ہے۔یہ ایک اور اشارہ ہے تا لوگوں کو متمدن دنیا کے اصول سے واقف کیا جاوے اور مہذب بنایا جاوے۔حقیقی طور پر تو اللہ تعالی ہی بادشاہ ہے۔مگر اس میں اشارہ ہے کہ ظنی طور پر بادشاہ ہوتے ہیں اور اسی لئے اس میں اشارہ ملک وقت کے حقوق کی نگہداشت کی طرف بھی ایما ہے۔یہاں کافر اور مشرک اور موحد بادشاہ یعنی کسی قسم کی قید نہیں بلکہ عام طور پر ہے خواہ کسی مذہب کا بادشاہ ہو، مذہب اور اعتقاد کے حصے جدا ہیں۔قرآن میں جہاں جہاں خدا نے محسن کا ذکر فرمایا ہے وہاں کوئی شرط نہیں لگائی کہ وہ مسلمان ہو اور موحد ہو اور فلاں سلسلہ کا ہو بلکہ 1156