نُورِ ہدایت — Page 1157
عام طور پر محسن کی نسبت ذکر ہے۔خواہ وہ کوئی مذہب رکھتا ہو اور پھر خدا تعالیٰ اپنے کلام پاک میں محسن کے ساتھ احسان کرنے کی سخت تاکید فرماتا ہے جیسے آیت ذیل سے ہویدا ہے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ (الرحمن : 61) کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا بھی ہوسکتا ہے۔( ماخوذ از روئیداد جلسه دعا، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 603_604) حمد پہلے اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے رَبّ النّاس فرمایا پھر مَلِكِ النَّاسِ آخر میں الهِ الناس فرما یا جو اصلی مقصود اور مطلوب انسان ہے۔الہ کہتے ہیں معبود، مقصود، مطلوب کو۔لا إلهَ إِلَّا الله کے معنی یہی ہیں کہ لَا مَعْبُودَ لِي وَلَا مَقْصُودَ لِي وَلَا مَطْلُوبَ لِي إِلَّا اللهُ یہی سچی توحید ہے کہ ہر مدح و ستائش کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی کو ٹھہرایا جاوے۔پھر فرمایا من شير الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ یعنی وسوسہ ڈالنے والے خناس کے شر سے پناہ مانگو۔خنّاس عربی میں سانپ کو کہتے ہیں جسے عبرانی میں نحاش کہتے ہیں اس لئے کہ اس نے پہلے بھی بدی کی تھی۔یہاں ابلیس یا شیطان نہیں فرمایا تا کہ انسان کو اپنی ابتدا کی ابتلا یاد آوے کہ کس طرح شیطان نے اُن کے ابوین کو دھوکا دیا تھا اس وقت اس کا نام خناس ہی رکھا گیا تھا یہ ترتیب خدا نے اس لئے اختیار فرمائی ہے تا کہ انسان کو پہلے واقعات پر آگاہ کرے کہ جس طرح شیطان نے خدا کی اطاعت سے انسان کو فریب دے کرڑ وگرداں کیا ویسے ہی وہ کسی وقت ملک وقت کی اطاعت سے بھی عاصی اور روگرداں نہ کرا دے۔یوں انسان ہر وقت اپنے نفس کے ارادوں اور منصوبوں کی جانچ پڑتال کرتا رہے کہ مجھ میں ملک وقت کی اطاعت کس قدر ہے اور کوشش کرتا رہے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگتا رہے کہ کسی مدخل سے شیطان اُس میں داخل نہ ہو جائے۔اب اس سورۃ میں جو اطاعت کا حکم ہے وہ خدا تعالیٰ ہی کی اطاعت کا حکم ہے کیونکہ اصلی اطاعت اُسی کی ہے مگر والدین ، مرشد و بادی اور بادشاہ وقت کی اطاعت کا حکم بھی خدا ہی نے دیا ہے اور اطاعت کا فائدہ یہ ہوگا کہ خناس کے قابو سے بچ جاؤ گے۔پس پناہ مانگو کہ خناس کی وسوسہ اندازی کے شر سے محفوظ رہو۔(ماخوذ از روئیداد جلسه، روحانی خزائن جلد 15 صفحه 619،618) 1157